کے ٹی آر کا کانگریس اور بی جے پی کے متبادل پر زور | Political Alternative
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے کانگریس پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بی جے پی کو مؤثر چیلنج کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا، ان کے مطابق، ملک کو دونوں جماعتوں سے الگ سیاسی متبادل کی ضرورت ہے۔
کے ٹی آر نے امبرپیٹ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی تجویز کی حمایت کی۔ اس تجویز میں کانگریس اور بی جے پی سے الگ سیاسی اتحاد بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے پاس بی جے پی کا مقابلہ کرنے کا واضح ایجنڈا نہیں ہے۔ ان کے مطابق، دونوں قومی جماعتوں سے باہر کی سیاسی قوتوں کی اہمیت بڑھے گی۔ مزید برآں، انہوں نے پیش گوئی کی کہ کے سی آر دوبارہ تلنگانہ کے چیف منسٹر بنیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کے سی آر قومی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
تلنگانہ کے مفادات اور کسانوں کے مسائل | Political Alternative
کے ٹی آر نے تلنگانہ کے کانگریس اور بی جے پی ارکان پارلیمنٹ پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ارکان پارلیمنٹ ریاست کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکے۔ اس کے علاوہ، ان کے مطابق، کانگریس سے مایوس بعض ووٹر اب بی آر ایس کی طرف آرہے ہیں۔
انہوں نے کانگریس حکومت پر کسانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کے مطابق، بجلی کی قلت کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ماہرین نے ال نینو کے ممکنہ اثرات سے 10 ماہ پہلے خبردار کیا تھا۔ تاہم، ان کے دعوے کے مطابق، حکومت نے بروقت مناسب اقدامات نہیں کیے۔
کے ٹی آر نے پانی کی فراہمی محفوظ بنانے میں بھی حکومت کو ناکام قرار دیا۔ انہوں نے پڑوسی ریاستوں کے آبپاشی منصوبوں کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، وہاں کی حکومتوں نے پانی ذخیرہ کرنے کے اقدامات کیے۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ حکومت نے ایسے اقدامات نہیں کیے۔
مختلف سماجی طبقات میں حکومت کے خلاف ناراضی | Political Alternative
انہوں نے کالیشورم منصوبے کے پمپ نہ چلانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر کا دعویٰ تھا کہ حکومت کے سی آر کو سیاسی فائدہ نہیں دینا چاہتی تھی۔ مزید برآں، انہوں نے کانگریس پر میڈی گڈا بیراج کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔ تاہم، ان الزامات پر حکومت کا ردعمل فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
کے ٹی آر نے کہا کہ مختلف سماجی طبقات میں حکومت کے خلاف ناراضی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، شہریوں کو پینے کے پانی اور بجلی کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران، کسان بھی مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس گمراہ کن تشہیر کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے مختلف طبقات سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔
مقامی انتخابات اور گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن | Political Alternative
کے ٹی آر نے منڈل پریشد ٹیریٹوریل حلقوں (ایم پی ٹی سی) کے انتخابات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے ضلع پریشد ٹیریٹوریل حلقوں (زیڈ پی ٹی سی) اور میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، حکومت کی انتخابی تیاریوں پر سوالات موجود ہیں۔ تاہم، انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بی آر ایس کارپوریشن انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے 2017 کے انتخابات کا حوالہ دیا۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں سے گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات کی تیاری تیز کرنے کی اپیل کی۔ کے ٹی آر نے ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی مہم میں باہمی تال میل پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس انتخابی مقابلے میں دولت کی طاقت استعمال کررہی ہے۔
کے ٹی آر نے کانگریس پر طلبہ اور بے روزگار افراد سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے نوجوان ووٹروں سے متعلق پارٹی کے یوتھ ڈیکلریشن کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، گریجویٹ ووٹر انتخابات میں کانگریس سے جواب طلب کریں گے۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کانگریس اور بی جے پی، کے سی آر پر تنقید کے معاملے میں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، قومی سطح پر دونوں جماعتوں کی مخالفت کے باوجود تلنگانہ میں ایسا رویہ سامنے آرہا ہے۔
قومی سیاست میں متبادل اتحاد کی اپیل | Political Alternative
کے ٹی آر نے قومی سطح پر متبادل سیاسی اتحاد کی ضرورت دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی کارکردگی نے دونوں قومی جماعتوں سے الگ اتحاد کی دلیل مضبوط کی ہے۔ ان کے مطابق، تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے متبادل سیاسی قوت ضروری ہے۔ اسی طرح، انہوں نے ملک کی سیاسی سمت کے لیے بھی ایسے اتحاد کی حمایت کی۔
کے ٹی آر نے کے سی آر کی تجویز کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسا اتحاد قومی سیاست میں نئی جگہ بنا سکتا ہے۔ تاہم، یہ سیاسی امکانات سے متعلق ان کا مؤقف اور پیش گوئی ہے۔
