مودی کا بیان عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش: محمد علی شبیر | Political Accountability
انتخابی شفافیت اور سیاسی تنازعات | Political Accountability
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے راہول گاندھی کو ’’ناکام پروڈکٹ‘‘ قرار دینے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبصرہ جمہوری حقوق، بے روزگاری اور حکومتی جوابدہی سے متعلق سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
محمد علی شبیر نے جمعہ کو میڈیا سمٹ میں مودی کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم تنقید کا جواب دینے کے بجائے ذاتی حملوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، عوام معاشی مشکلات، انتخابی شفافیت اور جمہوری اداروں کی آزادی سے متعلق جواب چاہتے ہیں۔
نہرو-گاندھی خاندان کی سیاسی وراثت | Political Accountability
مشیر نے کہا کہ کانگریس حکومت سے سوال کرتی ہے تو مودی راہول گاندھی اور نہرو-گاندھی خاندان کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی، مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں، سرمایہ داروں کو مبینہ رعایتوں اور اداروں کی خودمختاری پر تشویش کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کا جواب دینے کے بجائے کانگریس قیادت کے خاندانی پس منظر کو موضوع بنایا جاتا ہے۔
محمد علی شبیر نے مودی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ نہرو-گاندھی خاندان کانگریس پر بوجھ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کے بعد ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانیوں کا حوالہ بھی دیا، جو ملک کی خدمت کے دوران قتل ہوئے تھے۔
شبیر علی کے مطابق، جواہر لعل نہرو نے جمہوری اداروں، صنعتوں، سائنسی تنظیموں اور جامعات کے قیام میں مدد دی۔ انہوں نے ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں، انہوں نے سونیا گاندھی کے خاندان کی تاریخ کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے اپنی دادی اور والد کو قتل کے واقعات میں کھویا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں مودی کے سیاسی عروج پر بھی سوال | Political Accountability
شبیر علی نے کہا کہ سیاسی مخالفین خاندان کے فیصلوں پر تنقید کرسکتے ہیں۔ تاہم، ایسی تنقید کو اس کے افراد کی تاریخی خدمات نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں مودی کے سیاسی عروج پر بھی سوال اٹھائے۔ شبیر علی نے دعویٰ کیا کہ پارٹی قیادت نے مودی کو گجرات کا چیف منسٹر مقرر کیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ رکن اسمبلی یا وزیر نہیں رہے تھے۔ انہوں نے بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی کے کردار کا بھی حوالہ دیا۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ 2014 کے بعد بی جے پی نے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کردیا۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کو سرگرم سیاسی کردار سے ہٹا کر مارگ درشک منڈل میں شامل کیا گیا۔ شبیر علی نے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے سینئر رہنماؤں کی سبکدوشی کے لیے 75 سال کی عمر کا اصول اپنایا۔ تاہم، ان کے الزام کے مطابق، مودی کی عمر اس حد سے تجاوز کرنے کے بعد بھی یہی اصول لاگو نہیں کیا گیا۔
انتخابی شفافیت اور سیاسی تنازعات | Political Accountability
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی نے حکومتی تشہیر اور انتخابی مہمات کو ایک ہی رہنما کے گرد مرکوز کردیا ہے۔ شبیر علی کے مطابق، پارٹی کامیابیوں کا سہرا مودی کو دیتی ہے، جبکہ ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتی ہے۔
محمد علی شبیر نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تصاویر کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ہندوستان کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے تناظر میں بھی یہ معاملہ اٹھایا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ صرف تصاویر کی بنیاد پر کسی شخص کو قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق، عوامی شخصیات سے متعلق الزامات کا جائزہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
مشیر نے راہول گاندھی سے متعلق بیان کو انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کی مہم سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کو یقین دہانی ملنی چاہیے کہ اہل شہریوں کے نام انتخابی فہرستوں میں برقرار رہیں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جمہوری اداروں کی آزادی اور خودمختاری پر بھی زور دیا۔
آر ایس ایس کو لے کر کہی یہ بات | Political Accountability
شبیر علی نے سوال کیا کہ اگر راہول گاندھی کا سیاسی اثر محدود ہے تو مودی بار بار انہیں نشانہ کیوں بناتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب راہول گاندھی سماجی انصاف، بے روزگاری اور ادارہ جاتی جوابدہی کے مسائل اٹھاتے ہیں تو بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سخت ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے بی جے پی پر راہول گاندھی کا مذاق اڑانے، ان کے خاندان کو نشانہ بنانے اور نہرو کا حوالہ دے کر اصل سوالات سے بچنے کا الزام لگایا۔ شبیر علی نے کہا کہ مودی پالیسی، نظریے اور حکمرانی کے معاملات پر راہول گاندھی کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان کے والد، دادی اور پردادا پر ذاتی حملے عوامی مسائل کے جواب کا متبادل نہیں بن سکتے۔
آخر میں، محمد علی شبیر نے وزیر اعظم سے انتخابی فہرستوں، روزگار اور معیشت سے متعلق سوالات کے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی حملوں کے باوجود راہول گاندھی آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
