ریونت ریڈی کا ریاستی پولیس میں بہتر تال میل پر زور | Police Coordination
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سرحد پار جرائم روکنے کے لیے ریاستی پولیس کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سینئر عہدیداروں سے مؤثر نظام قائم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ہندوستان کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
ریونت ریڈی نے جمعہ کو حیدرآباد کے انٹیگریٹیڈ کمانڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) میں سدرن ریجنل پولیس کوآرڈینیشن کمیٹی (ایس آر پی سی سی) کے اجلاس کا افتتاح کیا۔ اجلاس میں پولیس اصلاحات، ٹیکنالوجی، سائبر جرائم، منشیات پر قابو پانے اور پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر تبادلہ خیال ہوا۔
چیف منسٹر نے کہا کہ عوامی تحفظ ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد ہے۔ عوام پولیس سے مؤثر، اخلاقی اور غیر جانب دار کارروائی کی توقع رکھتے ہیں۔ لہٰذا، بدلتے جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس نظام میں مسلسل اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے پولیس پر اخراجات کو مالی بوجھ کے بجائے عوامی تحفظ میں سرمایہ کاری قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس ریاستی پولیس فورسز اور خصوصی یونٹس کے درمیان تعاون کو مضبوط بنائے گا۔
سائبر جرائم اور منشیات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی | Police Coordination
ریونت ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ نے حیدرآباد کے پولیس نظام کو 3 کمشنریٹس میں منظم کیا ہے۔ ان میں حیدرآباد، سائبرآباد اور ملکاجگیری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ریاست نے عوامی تحفظ کے مختلف مسائل سے نمٹنے کے لیے حیدرآ، ایگل اور ٹی سیف جیسے خصوصی یونٹس قائم کیے ہیں۔
چیف منسٹر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، امیت شاہ نے تلنگانہ کو نکسل ازم سے پاک بنانے کی کوششوں پر ریاستی پولیس افسران کی ستائش کی تھی۔ ریونت ریڈی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں ہونے والے جائزے کے دوران سائبر جرائم پر قابو پانے میں تلنگانہ کو قومی سطح پر پہلا مقام ملا۔
تاہم، سائبر جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور ٹریفک کا دباؤ اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔ ریونت ریڈی نے تمام ریاستی پولیس محکموں سے ٹیکنالوجی اور تربیت میں سرمایہ کاری کی اپیل کی۔ ان کے مطابق، تلنگانہ پولیس کی اصلاحات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے حیدرآباد میں ٹرانس جینڈر افراد کو ٹریفک اسسٹنٹ مقرر کرنے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام نے تلنگانہ کو ایک منفرد شناخت دی ہے۔
پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور ریاستی تعاون | Police Coordination
ریونت ریڈی نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دورانِ ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو ایکس گریشیا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ سروس کی شرائط کے مطابق، اس کی رقم 1 کروڑ سے 2 کروڑ روپے تک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو رہائشی پلاٹس بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، اہل افراد کو ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ حکومت نے پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے ینگ انڈیا پولیس اسکول بھی قائم کیا ہے۔
چیف منسٹر نے واضح کیا کہ کوئی بھی ریاست تنہا تمام جرائم ختم نہیں کرسکتی۔ اس لیے، ریاستی سرحدوں کے پار پولیس تعاون کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پڑوسی ریاستوں کے ساتھ اپنے تکنیکی بنیادی ڈھانچے اور آئی سی سی سی نظام کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس میں تلنگانہ کے ڈی جی پی سی وی آنند، کرناٹک کے ڈی جی پی ایم اے سلیم اور تمل ناڈو کے ڈی جی پی مہیش اگروال شریک ہوئے۔ پڈوچیری کی ڈی جی پی شالنی سنگھ نے بھی شرکت کی۔ مزید برآں، لکشدیپ کے اے ڈی جی پی بی شنکر جیسوال، کیرالا کی آئی جی اجیتا بیگم اور آندھرا پردیش کے آئی جی روی کرشنا بھی اجلاس میں موجود تھے۔
