مدی راجو برادری کی فلاح پر حکومت کا عزم | Mudiraju Welfare
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر برائے امور مویشیاں واکیٹی سری ہری نے جمعرات کو مدی راجو برادری کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سماجی انصاف کے لیے پابند عہد ہے۔ مزید برآں، حکومت بی سی-ڈی سے بی سی-اے زمرے میں برادری کی منتقلی کے مطالبے کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔
وزیر نے رویندر بھارتی میں پنڈوگا سائیانا کی 174ویں یوم پیدائش تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے برادری کی ترقی کے لیے حکومت کے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان کے مطابق، تاریخی شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنا حکومتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ اسی طرح، محروم برادریوں کی عزت اور سماجی انصاف کا تحفظ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
مدی راجو برادری کی درجہ بندی کا مطالبہ | Mudiraju Welfare
واکیٹی سری ہری نے کہا کہ حکومت مدی راجو برادری کو بی سی-ڈی سے بی سی-اے زمرے میں منتقل کرنے کے مطالبے پر غور کرے گی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے کے اثرات کا محتاط جائزہ ضروری ہے۔ حکومت کو دیگر برادریوں کے مفادات بھی مدنظر رکھنے ہوں گے۔
وزیر نے خاص طور پر ماہی گیر برادری کا ذکر کیا۔ یہ برادری فی الحال بی سی-اے زمرے میں شامل ہے۔ لہٰذا، حکومت مجوزہ تبدیلی کے دوران اس کے موجودہ مفادات کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرے گی۔
سری ہری نے کہا کہ سماجی انصاف کے لیے مختلف ذاتوں کے مسائل سمجھنا ضروری ہے۔ مزید برآں، ہر برادری کے سماجی اور معاشی حالات کے مطابق مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت جاری ذات پات کی مردم شماری کو اہمیت دے رہی ہے۔
انہوں نے اس مردم شماری کو کانگریس رہنما راہل گاندھی کے وژن سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق، ذاتوں سے متعلق مخصوص مشکلات کی شناخت سے بہتر حکومتی پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔ یوں، مختلف برادریوں کی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنا آسان ہوگا۔
تاریخی شخصیات کی خدمات کا اعتراف | Mudiraju Welfare
وزیر نے تاریخی رہنماؤں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے سرکاری تقریبات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نمایاں شخصیات کی یوم پیدائش اور برسی کے پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومت نے اس روایت کو نظرانداز کیا تھا۔
سری ہری نے کہا کہ تاریخی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا اہم ہے۔ اس کے علاوہ، محروم برادریوں کی عزت کا تحفظ بھی حکومت کے سماجی انصاف کے عزم کا حصہ ہے۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ مدی راجو برادری کی فلاح و بہبود حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
تاہم، انہوں نے دیگر برادریوں کے لیے مساوی مواقع کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ حکومت درجہ بندی کے مطالبے کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف گروہوں کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہتی ہے۔ چنانچہ، اس معاملے میں سماجی انصاف اور تمام متعلقہ برادریوں کے حقوق اہم رہیں گے۔
