حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر زراعت و مارکیٹنگ تمّلا ناگیشور راؤ نے کپاس کی بروقت خریداری یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے جمعرات کو متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس 22 اکتوبر کو سیکریٹریٹ میں ہوا۔
وزیر نے 2026-27 کے خریف مارکیٹنگ سیزن کے لیے خریداری کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ مزید برآں، انہوں نے گزشتہ سال کے طریقہ کار کے مطابق مراکز قائم کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا مقصد کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) فراہم کرنا ہے۔
کپاس کی پیداوار اور خریداری کے انتظامات | Cotton Procurement
تمّلا ناگیشور راؤ نے تلنگانہ میں کپاس کی کاشت اور پیداوار کے تخمینوں کا جائزہ لیا۔ اسی دوران، انہوں نے مختلف علاقوں میں مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کا بھی جائزہ لیا۔ مزید برآں، انہوں نے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) کی خریداری اور کسانوں کو دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔
وزیر نے کہا کہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملنی چاہیے۔ لہٰذا، انہوں نے خریداری میں تاخیر روکنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے عہدیداروں سے بدلتے ہوئے مارکیٹ حالات پر فوری ردعمل دینے کو بھی کہا۔
عہدیداروں کے مطابق، کسانوں نے رواں خریف سیزن میں 48.20 لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت کی۔ انہوں نے مجموعی پیداوار 29.43 لاکھ میٹرک ٹن رہنے کا تخمینہ پیش کیا۔ اس کے برعکس، گزشتہ سیزن میں کپاس کی کاشت 50.73 لاکھ ایکڑ پر ہوئی تھی۔ تاہم، اس وقت پیداوار 28.33 لاکھ میٹرک ٹن رہی تھی۔
یہ اعداد و شمار کاشت کے رقبے میں کمی ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، رواں سیزن میں پیداوار کا تخمینہ گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ اسی دوران، تمّلا ناگیشور راؤ نے خراب موسم سے ممکنہ پیداواری نقصان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے خاص طور پر ملک بھر میں ال نینو کے اثرات کا ذکر کیا۔
ایم ایس پی 8,667 روپے فی کوئنٹل مقرر | Cotton Procurement
مرکزی حکومت نے 2026-27 کے خریف مارکیٹنگ سیزن کے لیے کپاس کی کم از کم امدادی قیمت 8,667 روپے فی کوئنٹل مقرر کی ہے۔ تاہم، عہدیداروں نے وزیر کو بتایا کہ تلنگانہ میں کپاس کی موجودہ اوسط مارکیٹ قیمت تقریباً 9,000 روپے فی کوئنٹل ہے۔
یوں، مارکیٹ قیمت مقررہ امدادی قیمت سے 333 روپے فی کوئنٹل زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں تمّلا ناگیشور راؤ نے بروقت خریداری کی اہمیت پر دوبارہ زور دیا۔ انہوں نے خریداری مراکز میں مناسب انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔
مزید برآں، وزیر نے گزشتہ سال کے خریداری ماڈل پر عمل کرنے کو کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو مقررہ امدادی قیمت ملنی چاہیے۔ لہٰذا، عہدیداروں کو خریداری کے عمل میں تاخیر سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے۔
