اروند کا کے ٹی آر پر طنز، بی جے پی کی جیت کا دعویٰ | Arvind KTR Remarks
حیدرآباد:۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرماپوری اروند نے جمعرات کو نظام آباد میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کی داڑھی پر طنز کیا۔ اروند نے کہا کہ داڑھی بڑھانے سے کے ٹی آر چیف منسٹر نہیں بن سکتے۔
انہوں نے 2028 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئی بھی کی۔ مزید برآں، انہوں نے کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کردیا۔ ان کے یہ بیانات پریس کانفرنس کے دوران سامنے آئے۔
اروند نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید کسی نے کے ٹی آر کو داڑھی بڑھانے کا مشورہ دیا ہو۔ ان کے مطابق، اس سے چیف منسٹر بننے کے امکانات بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر این اتم کمار ریڈی کی مثال بھی پیش کی۔
اروند نے کہا کہ اتم کمار ریڈی نے بھی داڑھی بڑھائی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق، اس سے کانگریس مضبوط نہیں ہوئی۔ انہوں نے سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا بھی ذکر کیا۔
2028 کے انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا دعویٰ | Arvind KTR Remarks
اروند کے مطابق، کسی نے کے سی آر کو مشورہ دیا تھا کہ پرانے سکریٹریٹ جانے سے انتخابی شکست ہوسکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی عمارت بھی کے سی آر کو اگلے انتخابات میں کامیابی نہیں دلا سکی۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے تلنگانہ میں اپنی پارٹی کی سرگرمیوں پر تنقید کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پس پردہ کام کررہی ہے۔ چنانچہ، انہوں نے 2028 کے اسمبلی انتخابات میں بغیر کسی اتحاد کے کامیابی کا اعتماد ظاہر کیا۔
اروند نے کانگریس اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد پر بات چیت جاری ہے۔
کانگریس اور بی آر ایس پر الزامات | Arvind KTR Remarks
اروند نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ناخوش ہے۔ ان کے مطابق، قیادت بی آر ایس کے ساتھ مفاہمت پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس مفاہمت کے نتیجے میں ریونت ریڈی کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ یہ تمام دعوے اروند نے اپنی پریس کانفرنس میں کیے۔
انہوں نے بی آر ایس پر کالیشورم پروجیکٹ میں بدعنوانی کا الزام بھی لگایا۔ اروند نے سوال کیا کہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے باوجود ووٹر دوبارہ اس جماعت کی حمایت کیوں کریں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بی آر ایس پر تشہیر کے لیے معاوضہ یافتہ سوشل میڈیا مہمات چلانے کا الزام عائد کیا۔
اروند نے کہا کہ بی جے پی اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بڑھائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس کو ان سوالات کے جواب دینے ہوں گے جو ان کی پارٹی اٹھائے گی۔
آخر میں، اروند نے پیش گوئی کی کہ بی آر ایس سیاسی منظرنامے سے غائب ہوجائے گی۔ انہوں نے کانگریس کے زوال کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم، یہ دونوں پیش گوئیاں ان کے سیاسی بیانات ہیں، ثابت شدہ نتائج نہیں۔
