شمش آباد اور راجندر نگر میں سڑکوں کی توسیع | GHMC Road Widening
حیدرآباد:۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے شمش آباد اور راجندر نگر میں 2 اہم سڑکوں کی توسیع کا عمل تیز کردیا ہے۔ یہ منصوبہ کئی سال سے زیر التوا تھا۔ اب حکام نے اراضی کے حصول کا عمل شروع کرتے ہوئے گولاپلی اور قسمت پور میں 23,496 مربع گز اراضی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد مضافاتی علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے۔ مزید برآں، حکام شہر کے بیرونی علاقوں تک آمدورفت بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ان سڑکوں کی توسیع سے مسافروں کو متبادل راستے بھی دستیاب ہوسکتے ہیں۔
کوریڈور 15 اور 19 کی توسیع کا منصوبہ | GHMC Road Widening
پہلا منصوبہ کوریڈور نمبر 15 سے متعلق ہے۔ جی ایچ ایم سی شمش آباد منڈل میں گولاپلی کے این ایچ-40 جنکشن سے پیڈا گولکنڈہ تک سڑک کو 100 فٹ چوڑا کرے گی۔ یہ راستہ آؤٹر رنگ روڈ کی سروس روڈ سے ہوکر گزرے گا۔
اس منصوبے کے لیے سڑک کے بائیں جانب 10,387 مربع گز اراضی حاصل کی جائے گی۔ اس سے 59 جائیدادیں متاثر ہوں گی۔ ان میں خالی پلاٹس، تجارتی عمارتیں، شیڈ اور مکانات شامل ہیں۔
دوسری جانب، راجندر نگر منڈل میں کوریڈور نمبر 19 پر بھی کام شروع کرنے کی تیاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت آؤٹر رنگ روڈ کی سروس روڈ سے بندلہ گوڑہ جاگیر اور قسمت پور ہوتے ہوئے شیولہ روڈ تک 100 فٹ چوڑی سڑک بنائی جائے گی۔ راستے پر 13,108 مربع گز اراضی حاصل کی جائے گی۔
اس توسیع سے تجارتی کامپلکس، اسپتال، پٹرول پمپ، خالی پلاٹس اور کثیر منزلہ عمارتیں متاثر ہوں گی۔ یوں، دونوں منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 23,495 مربع گز کے بجائے نوٹیفکیشن کے مطابق 23,496 مربع گز اراضی کا حصول طے کیا گیا ہے۔
بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کا حل | GHMC Road Widening
جی ایچ ایم سی نے 4 سال پہلے ان سڑکوں کی توسیع کی تجاویز تیار کی تھیں۔ تاہم، کسی وجہ سے کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس دوران، ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیرات ہوئیں اور ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا۔ نتیجتاً، مقامی باشندوں کو روزانہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اب اراضی کے حصول کے نوٹیفکیشن جاری ہونے سے مقامی لوگوں میں توسیع کی امید بڑھی ہے۔ مضافاتی علاقوں میں رہائشی اور تجارتی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سابقہ بی آر ایس حکومت نے بھی ان سڑکوں کی توسیع کے لیے حکم نامہ جاری کیا تھا۔
بلڈرز نے ماسٹر پلان میں سڑکوں کی توسیع کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 سے 40، بلکہ 50 منزلہ عمارتوں تک کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔ تاہم، سڑکیں چوڑی نہ ہونے سے بڑھتی آبادی کے ساتھ ٹریفک کے مسائل بھی بڑھتے رہے۔ حکام کے مطابق، توسیع سے آؤٹر رنگ روڈ اور شہر کے اہم علاقوں کے درمیان سفر آسان ہوگا۔ مزید برآں، متبادل راستوں سے سفر کا وقت کم ہونے اور اطراف کی کالونیوں سے رابطہ بہتر ہونے کی امید ہے۔
جائیداد مالکان کو اعتراضات کے لیے 60 دن | GHMC Road Widening
جی ایچ ایم سی کے اراضی حصول کے عہدیداروں نے جائیداد مالکان کو نوٹیفکیشن کے مطابق 60 دن میں اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متاثرہ مالکان، مقامی باشندے اور معاوضے سے متعلق دعوے رکھنے والے افراد تحریری درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواستیں جی ایچ ایم سی ہیڈ آفس میں واقع لینڈ ایکوزیشن اسپیشل کلکٹر کے دفتر میں جمع کرانی ہوں گی۔
اراضی کے نقشے اور منصوبے بھی اسی دفتر میں معائنے کے لیے دستیاب ہیں۔ گولاپلی روڈ سے متعلق اعتراضات کا عمل جاری رہے گا۔ قسمت پور روڈ کے لیے 3 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق، اراضی کے حصول کا عمل مکمل ہونے کے بعد سڑکوں کی توسیع شروع ہوگی۔ اس لیے متاثرہ افراد کو مقررہ مدت میں اپنے اعتراضات اور معاوضے کے دعوے داخل کرنے چاہییں۔
