روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 77 پیسے مضبوط | Indian Rupee Recovery
حیدرآباد:۔ ہندوستانی روپے کی قدر میں منگل کو مسلسل دوسرے دن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صبح کی فارن ایکسچینج تجارت میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 77 پیسے مضبوط ہوکر 95.05 پر پہنچ گیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اقدامات نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔
آر بی آئی نے ڈالر کی طلب اور قیاس آرائی پر مبنی تجارت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس سے روپے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ پیر کو بھی روپیہ 93 پیسے مضبوط ہوا تھا اور کاروبار کے اختتام پر 95.78 پر بند ہوا۔ یہ 6 ماہ میں اس کا سب سے بڑا یومیہ اضافہ تھا۔
آر بی آئی کے اقدامات سے روپے کو سہارا | Indian Rupee Recovery
آر بی آئی نے تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے ڈالر کی خصوصی سہولت متعارف کرائی۔ اس اقدام سے اسپاٹ مارکیٹ میں ان کمپنیوں کی ڈالر کی طلب کم ہونے کی توقع ہے۔ یوں، زرمبادلہ کی منڈی پر دباؤ گھٹ سکتا ہے۔
مزید برآں، مرکزی بینک نے بعض زرمبادلہ ہیجنگ معاملات کی لاگت بڑھا دی۔ اس کا مقصد قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ آر بی آئی نے حال ہی میں منسوخ کیے گئے زرمبادلہ ڈیریویٹو معاہدوں کو دوبارہ بک کرنے پر بھی پابندی عائد کی۔
ان اقدامات کا مقصد قیاس آرائی پر مبنی پوزیشنز محدود کرنا ہے۔ اس کے ساتھ، مرکزی بینک روپے پر دباؤ کم کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے طویل مدتی اثرات کا انحصار منڈی کے حالات پر بھی ہوگا۔
ڈالر انڈیکس اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی | Indian Rupee Recovery
عالمی منڈی کے حالات نے بھی روپے کو سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس، جو 6 بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر ناپتا ہے، 0.15 فیصد گر کر 102.43 پر آگیا۔ اس کمی سے روپے کو مزید مدد ملی۔
اسی دوران، خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1 فیصد سے زیادہ گر کر 105.47 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ کم قیمتوں سے ہندوستان کے درآمدی بل اور زرمبادلہ کی طلب پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
2026 کے اختتام تک روپے کی ممکنہ قدر | Indian Rupee Recovery
مارکیٹ ماہرین کے مطابق، 2026 کے اختتام تک روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 95.60 سے 97.50 کے درمیان رہ سکتا ہے۔ یہ اندازہ ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ بہتری کے باوجود روپے میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
منگل کا اضافہ پیر کی تیزی کے بعد سامنے آیا۔ آر بی آئی کے اقدامات، ڈالر انڈیکس میں کمی اور خام تیل کی سستی نے روپے کو سہارا دیا۔ تاہم، آئندہ قدر کا انحصار ملکی اور عالمی مالیاتی حالات پر ہوگا۔
