تلنگانہ میں بتکمّاں تہوار شروع | Bathukamma Festival
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں ہفتے کے روز بتکمّاں تہوار کا آغاز ہو گیا۔ اس موقع پر انگلی پولا بتکمّاں کے ساتھ 9 روزہ تقریبات شروع ہوئیں۔ تاہم، پھولوں کی بڑھتی قیمتوں نے شہری اور دیہی خاندانوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔
پھولوں کی قیمتوں میں اضافہ | Bathukamma Festival
ریاست بھر کی پھول منڈیوں میں موسمی پھول بڑی مقدار میں دستیاب ہیں۔ ان میں تنگیڈو، گنگو، گل داؤدی، گیندا اور گلاب شامل ہیں۔ تاہم، تہوار کی بڑھتی طلب کے باعث تاجروں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
اس کے نتیجے میں گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، گزشتہ سال کے مقابلے میں گیندے، گل داؤدی اور گنگو کے پھولوں کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔
چونکہ ہفتے کو تہوار کا پہلا دن ہے، اس لیے خریداروں کو مزید مہنگائی کا خدشہ ہے۔ اسی دوران، خاندان تقریبات کی تیاریوں کے لیے پھول خرید رہے ہیں۔ تاہم، بڑھتی قیمتیں ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
9 روزہ تقریبات کا شیڈول | Bathukamma Festival
تلنگانہ کی روایت کے مطابق، خواتین پھولوں کو تہہ در تہہ سجا کر بتکمّاں تیار کرتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ہر روز ان پھولوں کی پوجا کرتی ہیں۔ مزید برآں، تہوار کے ہر دن کا اپنا نام اور مخصوص رسم ہوتی ہے۔
پہلے دن انگلی پولا بتکمّاں منایا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے دن اٹکولا بتکمّاں اور تیسرے دن مڈا پپو بتکمّاں کی باری آتی ہے۔ یوں ابتدائی 3 دن مخصوص روایتی رسومات کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔
چوتھے دن نانے بیئم بتکمّاں منایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پانچویں دن اٹلا بتکمّاں اور چھٹے دن الیگینا بتکمّاں ہوتا ہے۔ اسی طرح ساتویں دن ویپاکایالا بتکمّاں منایا جاتا ہے۔
آٹھویں دن وینا مڈا بتکمّاں کی تقریب ہوتی ہے۔ بالآخر، 18 اکتوبر کو سڈولا بتکمّاں کے ساتھ 9 روزہ تقریبات اختتام پذیر ہوں گی۔ اس طرح تہوار اپنی روایتی رسومات کے مطابق مکمل ہوگا۔
مہنگائی کے باوجود تیاریاں جاری | Bathukamma Festival
پھولوں کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، تلنگانہ بھر میں خواتین تہوار کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ تاہم، بڑھتے اخراجات کے باعث کئی خاندان پھول کم مقدار میں خرید رہے ہیں۔ اس کے باوجود، وہ اپنی روایتی تقریبات ترک کرنے کے بجائے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید برآں، گھروں اور محلوں میں تہوار کا ماحول مسلسل پروان چڑھ رہا ہے۔ یوں مہنگائی کے دباؤ کے باوجود بتکمّاں کی روایتی رونق برقرار ہے۔ لہٰذا، خاندان محدود وسائل میں بھی اپنی ثقافتی روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
