یو پی آئی فیس پر روک سے سپریم کورٹ کا انکار| UPI Transaction Charges
حیدرآباد:۔ سپریم کورٹ نے مجوزہ یو پی آئی ٹرانزیکشن چارجز پر عبوری روک سے انکار کردیا۔ مجوزہ چارجز مخصوص ادائیگیوں پر 0.4فیصد مقرر کیے گئے ہیں۔ یوں، نئے قواعد 15 اکتوبر سے نافذ ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے مجوزہ چارجز کے خلاف دائر عوامی مفاد کی درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے عبوری روک نہیں لگائی۔ تاہم، عدالت نے معاملے پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں دیا۔
بنچ نے مرکز، ریزرو بینک آف انڈیا اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیے۔ دیگر فریقین کو بھی نوٹس بھیجے گئے۔ عدالت نے جواب داخل کرنے کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی۔
مزید برآں، عدالت نے مرکز سے چارجز کی بنیاد واضح کرنے کو کہا۔ حکومت کو مجوزہ فیس کے جواز سے متعلق تفصیلات دینی ہوں گی۔ اسی دوران، دیگر فریقین بھی اپنے جوابات داخل کریں گے۔
مخصوص مرچنٹ ادائیگیوں پر چارجز | UPI Transaction Charges
ستمبر میں جاری نوٹیفکیشن کے تحت 0.4فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لاگو ہوگا۔ یہ چارج 2,000 روپے سے زیادہ کی مخصوص یو پی آئی ادائیگیوں پر ہوگا۔ تاہم، نئے ڈھانچے میں مختلف حدیں اور استثنیٰ بھی شامل ہیں۔
75,000 روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر زیادہ سے زیادہ چارج 300 روپے ہوگا۔ حکومت نے عام صارفین پر محدود اثر پڑنے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کے درمیان یو پی آئی لین دین پر یہ چارج لاگو نہیں ہوگا۔
2,000 روپے تک کی مرچنٹ ادائیگیاں بھی مفت رہیں گی۔ مزید برآں، چھوٹے مرچنٹس کے لیے زیرو ایم ڈی آر نظام برقرار رہے گا۔ یہ سہولت ماہانہ 1 لاکھ روپے تک کیو آر ادائیگی حاصل کرنے والوں کے لیے ہوگی۔
ضروری خدمات کے لیے چارج 5 روپے مقرر رہے گا۔ اسی دوران، کیپیٹل مارکیٹ ٹرانزیکشنز پر 0.02فیصد چارج لاگو ہوگا۔ یہ شرح مجوزہ ڈھانچے کے تحت رکھی گئی ہے۔
حکومت نے چارجز کو ٹیکس قرار نہیں دیا | UPI Transaction Charges
مرکز نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 96فیصد مرچنٹ ٹرانزیکشنز متاثر نہیں ہوں گی۔ حکومت نے مزید کہا کہ یہ چارج سرکاری آمدنی کے لیے ٹیکس نہیں ہے۔ بلکہ اسے ادائیگی کے نظام سے متعلق سیٹلمنٹ فیس قرار دیا گیا۔
مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے بھی وضاحت دی۔ ان کے مطابق، صارفین براہ راست یہ چارج ادا نہیں کریں گے۔ چنانچہ مجوزہ نظام میں صارفین پر براہ راست فیس کا بوجھ نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے عبوری روک سے انکار کے بعد قواعد آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یوں، مجوزہ چارجز 15 اکتوبر سے نافذ ہوسکتے ہیں۔ تاہم، عدالت نے چارجز کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
آئندہ سماعت میں عدالت معاملے کا مزید جائزہ لے گی۔ اس سے پہلے مرکز اور دیگر فریقین اپنے حلف نامے داخل کریں گے۔ بعد ازاں، عدالت مجوزہ چارجز کی قانونی حیثیت پر غور کرے گی۔
