کانگریس نے کونڈا سریکھا کے خلاف کارروائی کا دفاع کیا | Party Discipline
حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے جمعہ کو کونڈا سریکھا کے خلاف پارٹی ہائی کمان کی کارروائی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا طرز عمل پارٹی نظم و ضبط کے خلاف تھا۔ مزید برآں، انہوں نے اسے قابل اعتراض قرار دیا۔
پارٹی نظم و ضبط پر زور | Party Discipline
دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس اپنے رہنماؤں کو اظہار رائے کی آزادی دیتی ہے۔ تاہم، ہر رہنما پر تنظیمی نظم و ضبط کی پابندی لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونڈا سریکھا نے غصے اور دکھ کی حالت میں بیانات دیے۔ لہٰذا، انہیں آئندہ ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے پاس شکایات پیش کرنے کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ پی سی سی صدر سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رہنما اے آئی سی سی کے ریاستی امور کے انچارج سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ یوں، وہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری یا براہ راست کانگریس ہائی کمان تک بھی اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔
ہائی کمان کے فیصلے کی وضاحت | Party Discipline
مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ کونڈا سریکھا پارٹی میں برقرار رہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں رہنے پر انہیں مستقبل میں مزید مواقع بھی ملیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہائی کمان نے کارروائی سوچ سمجھ کر کی۔ ان کے مطابق، پارٹی قیادت نے کونڈا سریکھا کے طرز عمل کو قابل اعتراض سمجھا۔
اسی دوران، مہیش کمار گوڑ نے کونڈا سشمتا کے بیانات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کونڈا سریکھا کو فوری طور پر اپنی بیٹی کے ریمارکس کی مذمت کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی سی سی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوری مذمت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب، مہیش کمار گوڑ نے وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی کے خلاف لگائے گئے الزامات بھی مسترد کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو کسی کو بلیک میل کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ کوئی ایسی صورتحال موجود ہے۔
لہٰذا، انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یوں، کانگریس اپنے رہنماؤں سے تنظیمی اصولوں کی پابندی کی توقع رکھتی ہے۔
