حیدرآباد: بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل اور ریاستی ترجمان داسوجو شراون نے جمعرات کو کانگریس قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر بھی کئی الزامات عائد کیے۔ شراون نے کہا کہ کانگریس تادیبی معاملات میں دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے تلنگانہ کانگریس کے داخلی تنازعات پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی مختلف قائدین کے معاملات میں یکساں رویہ اختیار نہیں کر رہی۔
داسوجو شراون نے ریونت ریڈی پر پسماندہ طبقات سے بے وفائی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کے معاملے میں بھی چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مزید برآں، انہوں نے وزیر کونڈا سریکھا کے خلاف تادیبی کارروائی پر سوال اٹھایا۔
یہ کارروائی کونڈا سریکھا کی دختر اپالا سشمیتا سے منسوب بیانات کے بعد سامنے آئی تھی۔ تاہم شراون نے سوال کیا کہ کانگریس نے صرف کونڈا سریکھا کے خلاف کارروائی کیوں کی۔ انہوں نے پوچھا کہ چیف منسٹر کے خلاف اسی نوعیت کا قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
اس سلسلے میں شراون نے ریونت ریڈی سے منسوب ایک بیان کا حوالہ بھی دیا۔ اطلاعات کے مطابق ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کا عہدہ 10 سال تک برقرار رکھنے کی بات کہی تھی۔
پارٹی فیصلوں اور تادیبی کارروائی پر سوالات | Double Standards In Congress
داسوجو شراون نے کانگریس ہائی کمان کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ خاص طور پر انہوں نے پارٹی کے داخلی تنازعات اور امیدواروں کے انتخاب کا معاملہ اٹھایا۔
شراون نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی نے پارکل کے لیے ریوری پرکاش ریڈی کا نام یکطرفہ طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق انہیں کانگریس امیدوار کے طور پر اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب شراون نے دیگر حلقوں میں ٹکٹ کے تنازعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حلقوں میں اے آئی سی سی نے مداخلت کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے دونوں طریقوں میں فرق پر سوال اٹھایا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے کانگریس کی فیصلہ سازی میں دوہرے معیار کا الزام لگایا۔
اس کے علاوہ شراون نے سینئر قائد کٹی وینکٹ سوامی کے خلاف تادیبی کارروائی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے اس کارروائی کے طریقہ کار پر سوال کیا۔ مزید برآں، انہوں نے ٹی پی سی سی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین ملو روی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
شراون نے الزام عائد کیا کہ ملو روی مختلف پارٹی قائدین کے لیے الگ معیار اختیار کر رہے ہیں۔ خاص طور پر انہوں نے کومٹ ریڈی برادران کے معاملے کا حوالہ دیا۔
اسی دوران شراون نے مبینہ گن کلچر کے الزامات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اراضی بے قاعدگیوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس قائدین کے خلاف اٹھائے گئے دیگر معاملات کی جانچ پر زور دیا۔
انتخابی بانڈز کا دفاع اور تحقیقات کا مطالبہ | Double Standards In Congress
دوسری جانب داسوجو شراون نے سیاسی فنڈنگ کے معاملے پر بی آر ایس کا دفاع کیا۔ انہوں نے انتخابی بانڈز کے ذریعے پارٹی کو ملنے والے 1,489 کروڑ روپے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یہ رقم سرکاری ریکارڈ میں درج اور شفاف تھی۔
اس کے بعد شراون نے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کئی مالی الزامات پر بحث کا مطالبہ کیا۔ ان میں مبینہ بے نامی اثاثے، اراضی معاملات اور کرپٹو کرنسی شامل ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے دیگر مالی معاملات کو بھی بحث میں شامل کرنے کی بات کہی۔
شراون نے پونگولیٹی سرینواس ریڈی پر ایک اور الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق وزیر سابق رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ شراون نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد دیگر تنازعات سے توجہ ہٹانا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اس معاملے کو کانگریس حکومت کی مبینہ ناکامیوں سے جوڑا۔ شراون نے اراضی سے متعلق تنازعات اور بدعنوانی کے الزامات کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم یہ الزامات بی آر ایس قائد کی سیاسی تنقید کے دوران کیے گئے دعوے ہیں۔
مزید برآں، داسوجو شراون نے اراضی گھوٹالوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مبینہ گن کلچر اور کمیشن پر مبنی بدعنوانی کے الزامات کی جانچ پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ان معاملات کو صرف سیاسی الزام تراشی تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔
بالآخر شراون نے کہا کہ کانگریس کے مبینہ دوہرے معیار نے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پارٹی قیادت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کو ان معاملات پر عوام کو جواب دینا چاہیے۔
