بی جے پی کا 22-اے اراضی تنازع پر اہم مطالبہ | 22A Land Issue
حیدرآباد:۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تلنگانہ صدر این رام چندر راؤ نے 22-اے اراضی معاملے پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کے فیصلوں سے کسانوں اور اراضی مالکان کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
این رام چندر راؤ نے یہ مطالبات سدی پیٹ میں کسانوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔ رکن پارلیمنٹ رگھونندن راؤ بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ اسی دوران، مظاہرین نے رجسٹرڈ پٹہ اراضی کو 22-اے ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کی مخالفت کی۔
کسانوں اور مقامی شہریوں نے ضلع کلکٹریٹ کے قریب آر ڈی او دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکام نے ان کی رجسٹرڈ پٹہ اراضی غیر قانونی طور پر ممنوعہ فہرست میں شامل کی۔ لہٰذا، انہوں نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
این رام چندر راؤ نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ کسانوں کی زمینیں 22-اے فہرست میں کیوں شامل ہوئیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس مبینہ سازش کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جس سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے سے فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسانوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ مزید برآں، انہوں نے اراضی حقوق کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل جدوجہد کا اعلان کیا۔
کانگریس حکومت پر تنقید | 22A Land Issue
این رام چندر راؤ نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے رعیتو بھروسہ اور رعیتو بندھو کو مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا۔ تاہم، حکومت کی جانب سے ان الزامات پر اجلاس میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے رعیتو بھروسہ کے تحت ₹15,000 دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے مطابق پہلے ₹12,000 دیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ کرایہ دار کسانوں کے لیے بھی رعیتو بندھو امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔
این رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ کرایہ دار کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں کسان خودکشیوں کی بڑی تعداد اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یوں، انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عام کسان اپنی زمین بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق 22-اے اراضی معاملے نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔
دھرنی اور بھو بھارتی نظام پر اعتراضات | 22A Land Issue
بی جے پی ریاستی صدر نے سابقہ دھرنی نظام پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے موجودہ بھو بھارتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نظاموں میں کسان مشکلات سے دوچار رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکاجگیری، چیویلا اور سدی پیٹ میں لاکھوں ایکڑ اراضی اور پلاٹس 22-اے ممنوعہ فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ اس مسئلے سے تلنگانہ میں تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
این رام چندر راؤ نے کہا کہ کئی خاندان ضرورت کے وقت اپنی زمین فروخت نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے مثال دی کہ بچوں کی تعلیم اور بیٹیوں کی شادی جیسے اخراجات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ لہٰذا، ان کے مطابق متاثرہ خاندان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر ہاؤسنگ پونگولیٹی سرینواس ریڈی کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے کے باوجود مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے چاہییں۔
عدالتی تحقیقات اور وائٹ پیپر کا مطالبہ | 22A Land Issue
این رام چندر راؤ نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کو انتظامی امور سے زیادہ رئیل اسٹیٹ کا تجربہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی پالیسیوں سے اراضی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت غریب اراضی مالکان کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق کم قیمت پر زمین حاصل کرکے بعد میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بی جے پی رہنما نے متاثرہ شہریوں کو درپیش مشکلات پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سوال کیا کہ ذہنی اذیت کا ازالہ کون کرے گا۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ حکومت 22-اے ممنوعہ فہرست میں شامل اراضی کی مکمل تفصیلات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کرے۔ چنانچہ، انہوں نے عدالتی تحقیقات کے ذریعے تمام حقائق سامنے لانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سدی پیٹ کا احتجاج بی جے پی کی ریاست گیر مہم کا حصہ ہے۔ یوں، پارٹی کسانوں اور اراضی مالکان کے مسائل کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔
