حیدرآباد ووٹر فہرستوں پر کانگریس کے اعتراضات | Voter Roll Transparency
حیدرآباد:۔ حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سید خالد سیف اللہ نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر کئی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے ووٹر فہرستوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی۔ مزید برآں، انہوں نے یاقوت پورہ اسمبلی حلقے میں 148 مشتبہ ڈپلیکیٹ ووٹر اندراجات کی سرکاری جانچ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کی ہدایات کے باوجود سیاسی جماعتوں کو ایناملی اور اَن میپڈ ووٹر فہرستیں نہیں دی گئیں۔ اسی دوران انہوں نے حیدرآباد کے مختلف پولنگ مراکز پر منعقد وارڈ سبھاؤں کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے بوتھ لیول ایجنٹس، پارٹی کارکنوں اور انتخابی حکام سے ملاقات کی۔
سید خالد سیف اللہ نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی میں سیاسی جماعتوں کا کردار اہم ہے۔ تاہم، مطلوبہ معلومات کے بغیر مؤثر تصدیق ممکن نہیں۔ لہٰذا متاثرہ ووٹروں کی رہنمائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اے ایس ڈی فہرستوں میں اہم معلومات کی کمی | Voter Roll Transparency
سید خالد سیف اللہ نے کہا کہ غیر حاضر، منتقل شدہ اور فوت شدہ ووٹروں کی اے ایس ڈی فہرستیں نامکمل ہیں۔ ان کے مطابق کئی اندراجات میں مکان نمبر درج نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مکمل پتے بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
انہوں نے سوال کیا کہ بوتھ لیول ایجنٹس گھروں تک کیسے پہنچیں گے۔ مزید برآں، نام اور محدود مقام کی بنیاد پر درست شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایناملی اور اَن میپڈ ووٹر فہرستیں بھی سیاسی جماعتوں کو فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر نے متعلقہ حکام کو یہ فہرستیں دینے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی کو اب تک یہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔
یاقوت پورہ میں 148 مشتبہ ڈپلیکیٹ اندراجات | Voter Roll Transparency
سید خالد سیف اللہ نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی کے باوجود بے ضابطگیاں باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یاقوت پورہ اسمبلی حلقے میں 148 مشتبہ ڈپلیکیٹ اندراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ چنانچہ ہر معاملے کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
ان کے مطابق پارٹی نے ہر کیس کا تقابلی ریکارڈ تیار کیا ہے۔ کئی اندراجات میں نام، رشتہ داروں کے نام اور تصاویر ایک جیسی ہیں۔ تاہم، ای پی آئی سی نمبر، پولنگ پارٹ، عمر یا پتہ مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات نظرثانی کے معیار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مزید برآں، ہر مشتبہ اندراج کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی حقیقی ووٹر کا نام صرف شبہے کی بنیاد پر حذف نہیں ہونا چاہیے۔
انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ | Voter Roll Transparency
سید خالد سیف اللہ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایناملی اور اَن میپڈ ووٹر فہرستیں فوری جاری کی جائیں۔ اس کے علاوہ اے ایس ڈی فہرستوں میں مکمل پتے اور مکان نمبر بھی شامل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول ایجنٹس کو مکمل معلومات ملنی چاہییں۔ یوں وہ متاثرہ ووٹروں سے رابطہ کر سکیں گے۔ مزید برآں، اہل شہری مطلوبہ دستاویزات جمع کرا سکیں گے اور اپنی معلومات درست کرا سکیں گے۔
سید خالد سیف اللہ نے تمام مشتبہ ڈپلیکیٹ اندراجات کی تفصیلی جانچ کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں مطلوبہ شفافیت موجود نہیں۔ لہٰذا عوام میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارے کے بجائے بھارتیہ جنتا پارٹی کے محاذی ادارے کی طرح کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کو زیادہ شفافیت اختیار کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقصد واضح ہونا چاہیے۔ جعلی اور ڈپلیکیٹ ووٹروں کو مکمل جانچ کے بعد ہٹایا جائے۔ اسی دوران ہر اہل شہری کے آئینی حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نہ کسی نااہل ووٹر کی شمولیت درست ہے اور نہ کسی اہل ووٹر کا نام حذف کیا جا سکتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں سید خالد سیف اللہ کے الزامات پر الیکشن کمیشن یا بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔
