کے ٹی آر کا ریاست گیر احتجاجی اعلان | Governance Campaign
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے 2 ستمبر سے ہفتہ بھر کی احتجاجی مہم کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم کانگریس حکومت کی کارکردگی پر عوامی توجہ مرکوز کرے گی۔ مزید برآں، پارٹی مختلف عوامی مسائل بھی اجاگر کرے گی۔
کے ٹی راما راؤ نے اتوار کو سینئر رہنماؤں سے ٹیلی کانفرنس کی۔ اجلاس میں منتخب عوامی نمائندے اور ریاستی کمیٹی کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔ اسی دوران، انہوں نے ریاست بھر میں منظم پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے انتخابی وعدے پورے نہیں کیے۔ ان کے مطابق حکومت 100 دن میں 6 ضمانتوں پر بھی عمل نہیں کر سکی۔ لہٰذا، پارٹی ان نکات کو عوام کے سامنے پیش کرے گی۔
عوامی مسائل پر خصوصی توجہ | Governance Campaign
کے ٹی راما راؤ نے رہنماؤں کو مختلف طبقات سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کسانوں، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کے مسائل پر الگ پروگرام منعقد کرنے کا کہا۔ اس کے علاوہ، دیگر سماجی طبقات کو بھی مہم میں شامل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج صرف انتخابی وعدوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یوں، ہر علاقے کے مخصوص مسائل بھی نمایاں کیے جائیں گے۔ پارٹی کانگریس کے وعدوں اور موجودہ کارکردگی کا تقابل بھی پیش کرے گی۔
کے ٹی راما راؤ نے “بقایا کارڈز” متعارف کرانے کی تجویز بھی دی۔ ان کارڈز میں مختلف طبقات کے مبینہ واجبات درج کیے جائیں گے۔ مزید برآں، کسانوں، زرعی مزدوروں، بزرگ شہریوں، طلبہ، نوجوانوں اور خواتین سے متعلق دعوے بھی شامل ہوں گے۔
طلبہ، نوجوان اور مختلف طبقات مہم کا مرکز | Governance Campaign
انہوں نے آٹو ڈرائیوروں، خواتین، قبائلی برادری، دلت، بی سیز، سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے الگ پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ ہر پروگرام متعلقہ طبقے کے مسائل پر مرکوز ہوگا۔ اسی دوران، مقامی قیادت کو فعال کردار ادا کرنے کا کہا گیا۔
کے ٹی راما راؤ نے طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 12,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ابھی تک ادا نہیں ہوئی۔ لہٰذا، رہنماؤں کو طلبہ اور والدین سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے نوجوانوں کے روزگار سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق انتخابی وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے الزامات عوام تک پہنچائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، پارٹی نوجوانوں سے براہ راست رابطہ بھی بڑھائے گی۔
ریاست بھر میں مرحلہ وار پروگرام | Governance Campaign
کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ احتجاج صرف روایتی مظاہروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یوں، مختلف برادریوں کے مطابق الگ سرگرمیاں اور ملاقاتیں منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے جدید انداز میں عوامی رابطہ مہم چلانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے حلقہ، منڈل، گاؤں اور وارڈ سطح پر پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل، جنرل سیکریٹریز، حلقہ انچارجز اور سابق عوامی نمائندوں کو شرکت کی ہدایت دی گئی۔ مزید برآں، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک مؤثر انداز میں پہنچنے پر بھی زور دیا گیا۔
بی آر ایس کی مجوزہ مہم میں بدعنوانی، اراضی، حکمرانی اور وسائل کے استعمال سے متعلق الزامات بھی اٹھائے جائیں گے۔ تاہم، یہ تمام الزامات بی آر ایس کے سیاسی دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس ماخذ میں موجود نہیں ہے۔ پارٹی نے تلنگانہ بھر کے کارکنوں سے اس احتجاجی مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔
