سید خالد سیف اللہ کا ایس آئی آر فراڈ پر انتباہ | Voter Security
حیدرآباد:۔ حیدرآباد ڈی سی سی صدر سید خالد سیف اللہ نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر سے جڑے ممکنہ فراڈ کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کی معلومات کا غلط استعمال سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل کی۔
الیکشن کمیشن نے 17 اگست کو مسودہ انتخابی فہرستیں جاری کیں۔ سید خالد سیف اللہ نے کہا کہ جعلساز ان معلومات کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی دوران وہ خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فراڈ کرنے والے ووٹر کا نام فہرست میں موجود ہونے یا حذف ہونے کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ لہٰذا کئی شہری ان کی بات پر یقین کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جعلساز او ٹی پی طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بینک معلومات یا دیگر خفیہ تفصیلات بھی مانگ سکتے ہیں۔
ووٹر معلومات کے تحفظ پر زور | Voter Security
سید خالد سیف اللہ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران جمع کی گئی معلومات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن گھر گھر گئے تھے۔ مزید برآں، انہوں نے فارم بھرنے میں ووٹروں کی مدد بھی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعض شہریوں نے آدھار کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔ لہٰذا یہ خدشہ موجود ہے کہ معلومات نقل یا شیئر کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حذف شدہ نام رکھنے والے ووٹر زیادہ نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران غلط اندراج رکھنے والے افراد بھی فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع سے ہی تصدیق کریں | Voter Security
سید خالد سیف اللہ نے ووٹروں کو او ٹی پی ہرگز شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے علاوہ بینک معلومات، کارڈ تفصیلات اور پاس ورڈ بھی کسی کو نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مشتبہ کال یا پیغام موصول ہو تو فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔ چنانچہ صرف الیکشن کمیشن کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔
انہوں نے کہا کہ نام کی شمولیت، حذف یا تصحیح کے لیے صرف مجاز انتخابی حکام سے رابطہ کیا جائے۔ یوں شہری فراڈ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تحقیقات اور نگرانی بڑھانے کا مطالبہ | Voter Security
سید خالد سیف اللہ نے کہا کہ پولیس مشتبہ کالوں کی مکمل تحقیقات کرے۔ مزید برآں، معلوم کیا جائے کہ جعلسازوں کو ووٹر معلومات کہاں سے ملیں۔
انہوں نے کہا کہ ووٹر معلومات جمع کرنے والے تمام افراد اس ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائیں۔ لہٰذا کسی بھی غیر مجاز شخص تک معلومات نہیں پہنچنی چاہئیں۔
انہوں نے حیدرآباد سٹی پولیس اور سائبر کرائم حکام سے مسلسل نگرانی کا مطالبہ کیا۔ یوں منظم فراڈ کی بروقت نشاندہی اور روک تھام ممکن ہوگی۔
