پرنسپل قتل کیس میں 2 طلبہ گرفتار | Principal Murder Case
حیدرآباد:۔ پولیس نے نلگنڈہ ضلع کے کونڈا ملے پلی میں ناگ ارجن اسکول کی پرنسپل روپا ریڈی کے قتل کیس میں 10ویں جماعت کے 2 طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان اسی اسکول کے طالب علم تھے۔ تفتیش کے بعد انہیں اس مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ڈکیتی کو واردات کا محرک قرار دیا گیا۔ مزید برآں، تفتیشی حکام نے الزام لگایا کہ دونوں طلبہ مبینہ طور پر گانجا کے عادی تھے۔ پولیس کے مطابق وہ تفریحی سرگرمیوں پر بھی رقم خرچ کرتے تھے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ 11 اگست کی شام تقریباً 6 بجے پیش آیا۔ اسی دوران پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے۔ بعد ازاں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات آگے بڑھائی گئیں۔
واردات کی منصوبہ بندی | Principal Murder Case
پولیس کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر روپا ریڈی کے گھر ان کی آمد سے پہلے داخل ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں دیوار پھلانگ کر احاطے میں پہنچے۔ اس کے بعد وہ مبینہ طور پر باورچی خانے میں چھپ گئے۔
پولیس کے مطابق روپا ریڈی اسکول سے واپس آئیں۔ انہوں نے معمول کے مطابق گھر کا دروازہ کھولا۔ انہیں گھر میں کسی کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔
حکام کے مطابق وہ تازہ دم ہونے کے بعد اپنے کمرے میں گئیں۔ اسی دوران پولیس کا الزام ہے کہ دونوں ملزمان نے پیچھے سے حملہ کیا۔ مبینہ طور پر حملے میں چاقو استعمال کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ روپا ریڈی کو حملے کے دوران 27 چاقو کے زخم آئے۔ مزید برآں، واقعے کے بعد ان کے ہینڈ بیگ سے ₹2 لاکھ لے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ اس کے بعد ملزمان مبینہ طور پر موقع سے فرار ہو گئے۔
حیدرآباد میں رقم خرچ کرنے کا الزام | Principal Murder Case
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان بعد میں حیدرآباد پہنچے۔ تفتیشی حکام نے الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر چرائی گئی رقم تفریحی سرگرمیوں پر خرچ کی۔ اس دعوے کی بھی تحقیقات کی گئیں۔
حکام کے مطابق ملزمان نے شناخت سے بچنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مبینہ طور پر سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ تاہم پولیس نے مختلف شواہد کی مدد سے ان کی شناخت کر لی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے متعدد سراغ اکٹھے کیے۔ لہٰذا دونوں طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں ان سے مزید پوچھ گچھ کی گئی۔
تحقیقات مکمل، پولیس کا مؤقف | Principal Murder Case
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس نے ابتدا میں حملہ آوروں کی شناخت اور محرک سے متعلق کئی سوالات کھڑے کیے تھے۔ تاہم بعد کی تحقیقات میں مبینہ طور پر واردات کو ڈکیتی سے جوڑا گیا۔ پولیس نے اپنے دعووں کی بنیاد پر دونوں طلبہ کو گرفتار کیا۔
حکام کے مطابق تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ملزمان مبینہ طور پر روپا ریڈی کی آمد سے پہلے گھر میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے اندر انتظار کیا۔ پولیس کے مطابق حملہ ان کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد کیا گیا۔
پولیس نے دونوں طلبہ کو قتل اور مبینہ ڈکیتی کے الزام میں تحویل میں لے لیا ہے۔ مزید برآں، مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
