نرسم پیٹ میں پیدّی سدرشن ریڈی کا مجسمہ ہٹا دیا گیا | Peddi Statue
حیدرآباد:۔ ورنگل ضلع کے نرسم پیٹ میں پیدّی سدرشن ریڈی کا مجسمہ نصف شب ہٹا دیا گیا۔ حکام نے کارروائی سخت پولیس سکیورٹی میں مکمل کی۔ پولیس نے میڈیکل کالج کے سامنے موجود مقام کو مکمل گھیرے میں رکھا۔
حکام نے مجسمہ ہٹانے کے دوران اطراف کے علاقوں میں آمد و رفت محدود کر دی۔ مزید برآں، عام لوگوں کو مقام کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس نے پورے نرسم پیٹ حلقے میں اضافی نفری بھی تعینات کی۔
بی آر ایس رہنماؤں نے کارروائی کی مخالفت کی۔ اسی دوران، پارٹی کارکن مجسمے کے معاملے پر جمع ہونا شروع ہوئے۔ پولیس نے کئی اہم بی آر ایس رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
سخت سکیورٹی انتظامات | Peddi Statue
حکام نے آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں کے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی لگائی۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ پولیس مسلسل علاقے کی نگرانی کرتی رہی۔
یہ تنازع نیا نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی مجسمہ نجی زمین پر نصب کرنے کی کوشش ہوئی تھی۔ تاہم، حکام نے اس وقت بھی تنصیب روک دی تھی۔ یہ زمین نجی ملکیت میں تھی۔
بی آر ایس رہنماؤں نے اس فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ نجی زمین پر مجسمہ لگانے میں اعتراض کیوں کیا گیا۔ بعد ازاں، رہنماؤں نے پولیس کو قانونی کارروائی کی وارننگ دی۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد پولیس نے اپنی سابقہ پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
بی آر ایس کا احتجاج برقرار | Peddi Statue
تازہ کارروائی کے بعد نرسم پیٹ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی۔ لہٰذا، حکام نے پورے علاقے میں سکیورٹی مزید مضبوط کر دی۔ میڈیکل کالج کے اطراف مسلسل پولیس تعینات رہی۔
پیدّی سدرشن ریڈی تلنگانہ تحریک کے سرگرم رہنما تھے۔ وہ نرسم پیٹ سے سابق رکن اسمبلی بھی رہے۔ ان کے مجسمے کی تنصیب کئی دنوں سے سیاسی تنازع کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
دوسری جانب، بی آر ایس رہنماؤں نے حکومتی اقدام پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی۔ تاہم، حکام نے سکیورٹی وجوہات کو بنیاد قرار دیا۔
سیاسی تنازع مزید گہرا | Peddi Statue
مجسمہ ہٹانے کے بعد حلقے میں سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا۔ یوں، نرسم پیٹ ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ حکام نے کئی مقامات پر نقل و حرکت بھی محدود رکھی۔
پولیس نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔ چنانچہ، اضافی نفری علاقے میں تعینات رہی۔ حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
