تلنگانہ ووٹر فہرست پر 92 لاکھ نوٹس | Electoral Revision
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے انتخابی حکام نے خصوصی جامع نظرثانی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد ابتدائی انتخابی فہرست جاری کردی۔ مزید برآں حکام نے اعلان کیا کہ تقریباً 92 لاکھ رائے دہندگان کو مختلف بے ضابطگیوں یا غیر منسلک ریکارڈ کے باعث نوٹس بھیجے جائیں گے۔
ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی نے پیر کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ تفصیلات دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں خصوصی نظرثانی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ یوں انتخابی عمل اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔
سدرشن ریڈی نے کہا کہ اس مہم کے دوران 78 فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے مردم شماری فارم جمع کرائے۔ مزید برآں ابتدائی جانچ کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تصدیق کے دوران 2 فیصد سے زیادہ ووٹرز کو متوفی قرار دیا گیا۔ لہٰذا متعلقہ اندراجات مزید جانچ کے لیے الگ کیے گئے۔
ریکارڈ کی جانچ کا مرحلہ شروع | Electoral Revision
چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ تقریباً 60 لاکھ ووٹر ریکارڈ میں مختلف بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 32 لاکھ رائے دہندگان کے ریکارڈ نقشہ بندی سے باہر پائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات کے باعث تقریباً 92 لاکھ افراد کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ مزید برآں ہر نوٹس میں وجہ بھی واضح طور پر درج ہوگی۔
سدرشن ریڈی نے رائے دہندگان سے جلد جواب دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات بروقت جمع کرانے سے جانچ کا عمل آسان ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ووٹر کا نام فہرست سے حذف کیا جاتا ہے تو وہ اعتراض داخل کرسکتا ہے۔ یوں ہر متاثرہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
اکتوبر تک دعووں اور اعتراضات کی جانچ | Electoral Revision
انتخابی حکام اکتوبر تک تمام دعووں، اعتراضات اور درخواستوں کی جانچ کریں گے۔ اسی دوران ریاست بھر میں 2,000 سے زیادہ اہلکار اس عمل میں مصروف رہیں گے۔
حکام نے کہا کہ ابتدائی فہرست کی اشاعت کے بعد بھی نظرثانی کا عمل جاری رہے گا۔ لہٰذا ہر درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حتمی انتخابی فہرست تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی جاری ہوگی۔ مزید برآں تمام اعتراضات اور دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں 78 فیصد سے زیادہ فارم موصول ہوئے۔ تاہم جانچ کے دوران متوفی ووٹرز، بے ضابطہ ریکارڈ اور غیر منسلک اندراجات بھی سامنے آئے۔
اب حکام متاثرہ ووٹروں سے نوٹس کے ذریعے وضاحت اور دستاویزات طلب کریں گے۔ اس کے علاوہ موصول ہونے والے تمام دعووں اور اعتراضات کی جانچ کے بعد ہی حتمی انتخابی فہرست شائع کی جائے گی۔
