ریونت ریڈی کا اقلیتی فلاح پر زور | Minority Progress
حیدرآباد:۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے لیے اقلیتی فلاح اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق دونوں برادریاں ان کی دو آنکھوں کی مانند ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بنجارہ ہلز کے کومرم بھیم آدیواسی بھون میں تلنگانہ مائنارٹیز پرتیبھا کانفرنس سے خطاب کیا۔ مزید برآں، انہوں نے سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے امیدواروں سے تلنگانہ رائزنگ کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے 782 اقلیتی امیدواروں کو مبارکباد بھی دی۔
یہ امیدوار گروپ 1، گروپ 2، گروپ 3، گروپ 4 اور دیگر تقرریوں میں کامیاب ہوئے۔ اسی دوران، انہوں نے نیٹ، آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی جیسے قومی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی بھی ستائش کی۔
وزیر پونّم پربھاکر، اظہرالدین اور پونگولیٹی سرینواس ریڈی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ، حکومتی مشیر محمد علی شبیر، ٹمریز کے صدر فہیم قریشی، سکریٹری بی شفیع اللہ عوامی نمائندے اور افسران بھی موجود تھے۔
تعلیم اور مہارت پر زور | Minority Progress
ریونت ریڈی نے کہا کہ تعلیم ہی مستقبل بدل سکتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے طلبہ کو نرسری سے کلاس 12 تک مسلسل تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد مہارت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ روزگار کی منڈی میں ہنر مند افراد کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کو جدید مہارتیں سیکھنی چاہئیں۔ انہوں نے جرمنی اور جاپان کی مثال بھی پیش کی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے آئی ٹی آئی اداروں کو ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز میں تبدیل کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پولی ٹیکنک کالجوں کو اسکلز یونیورسٹی کے تحت لایا گیا ہے۔ اس اقدام سے نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع ملیں گے۔
انہوں نے سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے امیدواروں کو خصوصی مبارکباد دی۔ یوں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل رکھنے والے خاندانوں کے نوجوانوں نے محنت سے کامیابی حاصل کی ہے۔
فلاحی اقدامات اور تقرریوں کا ذکر | Minority Progress
ریونت ریڈی نے کہا کہ بعض حلقوں نے اقلیتوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی خاندانوں کو 200 یونٹ تک مفت بجلی کی سہولت بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ، حکومت نے اقلیتوں کو دیگر فلاحی پروگراموں میں بھی ترجیح دی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سابق حکومت پر سرکاری تقرریاں مکمل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ پہلے گروپ 1 سمیت کئی بھرتیاں مکمل نہیں ہوئیں۔ انہوں نے امتحانی پرچوں کی فروخت سے متعلق بھی تنقید کی۔
پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات | Minority Progress
ریونت ریڈی نے کہا کہ گروپ 1 اور گروپ 2 جیسے امتحانات کے لیے قابل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا حکومت نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یونین پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ماہرین سے مشاورت کی۔ اس کے بعد تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں جامع اصلاحات کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض گروہوں نے امتحانات روکنے کی کوشش کی۔ تاہم حکومت نے امیدواروں کا ساتھ دیا۔ حکومت نے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک مقدمات کی پیروی کے لیے سینئر وکلا مقرر کیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قانونی کوششوں سے بھرتی کا عمل مکمل ہوا۔ چنانچہ انہوں نے نئے منتخب امیدواروں سے تلنگانہ رائزنگ میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ آخر میں انہوں نے 782 اقلیتی کامیاب امیدواروں کو دوبارہ مبارکباد دی۔
