حیدرآباد:۔ اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت بلوں کی ادائیگی میں تاخیر نے ہزاروں کیب ڈرائیوروں اور منی وین آپریٹروں کو شدید مالی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مستقل گھر نہ ہونے کی وجہ سے اس اسکیم کے لیے درخواست دی تھی۔ ابتدائی جانچ کے دوران حکام نے انہیں اہل قرار دیا تھا۔
بعد ازاں بلوں کی منظوری کے مرحلے میں کئی درخواست گزاروں کو گاڑی کا مالک قرار دے کر ادائیگیاں روک دی گئیں۔ اس فیصلے سے وہ مستفیدین بھی متاثر ہوئے جنہوں نے اپنے مکانات کی تعمیر مکمل کر لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام نے پہلے درخواست منظور کی، لیکن بعد میں معیار تبدیل کر دیا۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزگار کے لیے کیب یا منی وین چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف گاڑی کا مالک ہونا مالی خوشحالی کی علامت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی آمدنی سے گھر چلانا بھی مشکل ہوتا ہے۔
بعض درخواست گزاروں نے اہلیت برقرار رکھنے کے لیے اپنی گاڑیاں فروخت کر دیں۔ کچھ افراد نے گاڑیوں کی ملکیت دوسرے لوگوں کے نام منتقل کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں حلف نامے بھی جمع کرائے۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود بل جاری نہیں ہوئے۔
ادائیگیوں میں تاخیر سے قرضوں کا بوجھ | Indiramma Bill
متاثرین کے مطابق کئی افراد نے حکام کی ابتدائی منظوری کے بعد قرض لے کر گھروں کی تعمیر شروع کی۔ انہیں یقین تھا کہ اسکیم کے تحت مالی مدد بروقت مل جائے گی۔ تاہم ادائیگی نہ ہونے سے ان پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا۔
کئی مستفیدین کا کہنا ہے کہ وہ قرض کی قسطیں ادا نہیں کر پا رہے۔ مزید برآں تعمیراتی اخراجات نے ان کی مالی حالت مزید کمزور کر دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی امداد نہ ملنے سے مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ مسئلہ تقریباً 20,000 مستفیدین کو متاثر کر رہا ہے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہوں نے اپنی جمع پونجی یا قرض سے گھر تعمیر کیے۔ اب وہ اپنے اخراجات کی واپسی کے بارے میں فکرمند ہیں۔
اہلیت پر سوالات اور وضاحت کا مطالبہ | Indiramma Bill
متاثرہ کیب ڈرائیوروں نے اپنی اہلیت میں اچانک تبدیلی پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام نے پہلے ان کی درخواستیں قبول کی تھیں۔ بعد میں چار پہیوں والی گاڑی کی بنیاد پر انہیں نااہل سمجھا گیا۔
متاثرین کے مطابق گاڑی فروخت کرنے یا ملکیت منتقل کرنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اسی دوران جمع کرائے گئے حلف ناموں سے بھی کوئی فائدہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ زیر التوا بل اب بھی جاری نہیں کیے گئے۔
متاثرہ افراد حکومت سے واضح رہنمائی چاہتے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی ابتدائی منظوری کو مدنظر رکھا جائے۔ لہٰذا وہ زیر التوا ہاؤسنگ امداد فوری جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مالی بحران کم ہو سکے۔
متاثرین حکومتی فیصلے کے منتظر | Indiramma Bill
متاثرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے ہیں کہ حکام ایک واضح اور یکساں پالیسی اختیار کریں۔ ان کے مطابق بروقت فیصلہ ہزاروں خاندانوں کو ریلیف دے سکتا ہے۔
