فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ پر قانونی مشاورت | Family Register Certificate
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ سے متعلق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے پر قانونی رائے حاصل کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت آئینی ادارے کے طور پر الیکشن کمیشن کا مکمل احترام کرتی ہے۔ تاہم فیصلے کی قانونی بنیادوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہر قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ مقصد حقیقی ووٹروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانا ہے۔ غریب اور کمزور طبقات کو تصدیقی عمل میں اضافی بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
11 اگست کو الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر وضاحت جاری کی۔ یہ وضاحت تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کی درخواست کے بعد سامنے آئی۔ ریاستی حکومت نے 25 جولائی 2026 کو جی او ایم ایس نمبر 172 کے تحت نیا سرٹیفکیٹ متعارف کرایا تھا۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ نئے سرٹیفکیٹ کی معلومات فوڈ سکیورٹی کارڈ کے ڈیٹا بیس سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسے راشن کارڈ کے مساوی تصور کیا گیا۔ چنانچہ اسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے منظور شدہ دستاویزات میں شامل نہیں کیا گیا۔
سرکاری ریکارڈ کی حیثیت | Family Register Certificate
محمد علی شبیر نے اس مؤقف پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق سرکاری ڈیٹا بیس سے حاصل معلومات اپنی ثبوتی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔ صرف ڈیٹا کے ماخذ کی بنیاد پر اس کی حیثیت ختم نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ بھی حکومت ہی جاری کرتی ہے۔ اس کے اجرا سے پہلے مقررہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مرکز اور ریاست دونوں اسی نظام سے مستحق افراد کی شناخت کرتے ہیں۔
مزید برآں غذائی تحفظ کی قانونی اسکیمیں بھی اسی ریکارڈ پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے سرکاری معلومات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی نکتہ حکومت قانونی مشاورت میں پیش کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ راشن کارڈ کو شہریت کا حتمی ثبوت قرار دینے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔ اصل مؤقف معاون دستاویزات کی قانونی اہمیت سے متعلق ہے۔ انتخابی حکام دیگر شواہد کے ساتھ ایسے ریکارڈ کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ | Family Register Certificate
محمد علی شبیر نے 27 مئی 2026 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ اس فیصلے میں بہار کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کو برقرار رکھا گیا تھا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کو بھی تسلیم کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن مطلوبہ دستاویزات اور ثبوت کا معیار مقرر کر سکتا ہے۔ اسی لیے تلنگانہ حکومت آئینی اور قانونی دائرے میں دستیاب امکانات کا جائزہ لے گی۔ ماہرین قانون سے بھی رائے طلب کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے نئے سرٹیفکیٹ اور 2013 کے فیملی ممبر سرٹیفکیٹ میں فرق بھی واضح کیا۔ پرانے سرٹیفکیٹ کے اجرا سے پہلے مقامی سطح پر جانچ ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے وہ اب بھی قابل قبول ہے۔
دوسری جانب نئے سرٹیفکیٹ کو وہی درجہ نہیں دیا گیا۔ کمیشن نے اس کی وجہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کا ڈیٹا بیس قرار دی۔ حکومت اس فرق کے قانونی اثرات کا بھی جائزہ لے گی۔
متبادل تصدیقی نظام پر غور | Family Register Certificate
محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت متبادل تصدیقی طریقوں پر بھی غور کرے گی۔ اضافی جانچ یا مناسب سرکاری تصدیق ایک ممکنہ حل ہو سکتی ہے۔ اس سے شہریوں پر دستاویزات کا بوجھ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تصدیقی عمل سخت ضرور ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ عام شہری کے لیے آسان بھی ہونا چاہیے۔ بزرگ، غریب اور نقل مکانی کرنے والے افراد کو غیر ضروری مشکلات نہیں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وہ پہلے بھی وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کی تجویز دے چکے ہیں۔ یہ تجویز کرناٹک ماڈل سے متاثر تھی۔ اس کا مقصد دستاویزی کمی کا سامنا کرنے والے حقیقی شہریوں کی مدد کرنا تھا۔
آخر میں محمد علی شبیر نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت ہر اہل ووٹر کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن کے آئینی کردار کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت ایسا قانونی حل تلاش کرے گی جو شفافیت اور عوامی سہولت دونوں کو یقینی بنائے۔
