NEET Accountability
حیدرآباد:۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے جمعرات کو حیدرآباد میں نیٹ پیپر لیک کے مبینہ معاملے پر احتجاج کیا۔ پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی بھی مذمت کی۔
سی پی آئی کی ریاستی کمیٹی کے زیر اہتمام ریلی لبرٹی چوراہے سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں ریلی ٹینک بنڈ پر واقع ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے تک پہنچی۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔
طلبہ کے احتجاج کی حمایت | NEET Accountability
ریاستی سکریٹری اور رکن اسمبلی کونامنینی سمبشیوا راؤ نے اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ آمرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہلی میں خواتین سمیت مظاہرین کے خلاف پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے ان واقعات پر عدالتی مداخلت کا بھی مطالبہ کیا۔
سی پی آئی کے قومی سکریٹری پلا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت نیٹ کے ذریعے تعلیم پر مرکزی کنٹرول مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو طلبہ کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔
استعفے کا مطالبہ برقرار | NEET Accountability
سی پی آئی نیشنل کنٹرول کمیشن کے چیئرمین کے نارائنا نے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کو سیاسی رنگ دینا غیر جمہوری عمل ہے۔ لہٰذا انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کو نیٹ پیپر لیک کے مبینہ معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر سے فوری استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات کو نظرانداز کیا تو ملک بھر میں احتجاج مزید وسیع ہوگا۔ یوں سی پی آئی اپنی تحریک کو مزید تیز کرے گی۔
احتجاجی پروگرام میں سینئر رہنما پاشیا پدما، ای ٹی نرسمہا، تکللاپلی سرینواس راؤ اور دیگر پارٹی رہنما بھی شریک ہوئے۔
