Outreach Campaign
حیدرآباد ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راو نے حیدرآباد میں فلمی اداکار چرنجیوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس کے بعد سیاسی اور فلمی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ یہ ملاقات نریندر مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری رابطہ مہم کے تحت کی گئی۔
بی جے پی رہنماؤں کے مطابق یہ ملاقات “مہاجن سمپرک ابھیان” کا حصہ تھی، جس کا مقصد مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات تک پہنچنا اور انہیں مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی اقدامات سے آگاہ کرنا ہے۔ اس موقع پر رام چندر راو نے چرنجیوی کو ایک کتاب اور معلوماتی کتابچے بھی پیش کیے جن میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران حکومت کی کارکردگی کی تفصیلات شامل تھیں۔
حکومتی کارکردگی اور ترقیاتی امور پر گفتگو | Outreach Campaign
پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ملک کی معاشی ترقی اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ ملاقات کا مقصد چرنجیوی کو مرکزی حکومت کی مختلف پالیسیوں اور اقدامات سے آگاہ کرنا تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک خیرسگالی ملاقات تھی اور اسے کسی سیاسی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم ملاقات کے بعد مختلف حلقوں میں اس کے سیاسی اثرات پر گفتگو شروع ہو گئی۔
رام چندر راو کی جانب سے چرنجیوی سے ملاقات نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی کیونکہ وہ ماضی میں مرکزی وزیر رہ چکے ہیں اور سیاست میں سرگرم کردار ادا کر چکے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے فعال سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنی توجہ فلمی کیریئر پر مرکوز کر دی تھی۔
سیاسی قیاس آرائیوں پر بی جے پی کی وضاحت | Outreach Campaign
ملاقات کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں چرنجیوی کی ممکنہ سیاسی واپسی سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ دریں اثنا بی جے پی ذرائع نے واضح کیا کہ اس ملاقات کو کسی نئی سیاسی پیش رفت سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ملک گیر رابطہ مہم کا حصہ تھی اور اس کا مقصد صرف حکومتی کارکردگی سے متعلق معلومات فراہم کرنا تھا۔ مزید یہ کہ ملاقات کے دوران چرنجیوی کے کسی سیاسی کردار یا مستقبل کے منصوبے سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
اس ملاقات کو اس وجہ سے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ چرنجیوی کے چھوٹے بھائی اور جن سینا پارٹی کے سربراہ پون کلیان قومی جمہوری اتحاد کے اہم اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ملاقات کے بعد بھی چرنجیوی کی سیاست میں واپسی سے متعلق کوئی اشارہ یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
