Public Trust
حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اقتدار کے 2.5 سال مکمل ہونے کے باوجود عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا سکی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی کارکردگی سے مختلف طبقات میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔
جمعہ کے روز تلنگانہ بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس اسمبلی وہپ اور قطب اللہ پور کے رکن اسمبلی کے پی وویکانند نے ایم ایل سی داسوجو سراون کے ہمراہ کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر تلنگانہ کے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
کے پی وویکانند نے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے وقت عوام سے متعدد وعدے کیے تھے، تاہم ان پر عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق حکومت مسلسل یقین دہانیاں کراتی رہی لیکن عوامی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہی۔
عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے کا الزام | Public Trust
کے پی وویکانند نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت نے اپنے دور اقتدار میں تقریباً ₹12,000 کروڑ مالیت کی سرکاری زمینیں فروخت کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ ان لین دین سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کی گئی۔
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی فلاح اور انتظامی امور کے بجائے زمینوں سے متعلق سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں قیمتی اراضی کے حصول کو ترجیح دی گئی جبکہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل پس پشت ڈال دیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ تاہم ان کے مطابق حکومت عوامی ناراضگی کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپنی ترجیحات تبدیل کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
ایچ آئی ایل ٹی پالیسی پر اعتراضات | Public Trust
ایم ایل سی داسوجو سراون نے پریس کانفرنس کے دوران ایچ آئی ایل ٹی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پالیسی کو چند مخصوص نجی اداروں کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے ذریعے زمینوں کے بڑے پیمانے پر تبادلے اور منتقلی کی راہ ہموار کی گئی۔ مزید یہ کہ انہوں نے اس کے نفاذ میں بے ضابطگیوں کے وجود کا بھی دعویٰ کیا اور حکومت پر شفافیت کے فقدان کا الزام عائد کیا۔
داسوجو سراون نے ایچ آئی ایل ٹی پالیسی کو زمینوں سے متعلق ایک بڑا تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو تمام معاملات کی مکمل تفصیلات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری املاک اور زمینوں سے متعلق فیصلوں میں شفافیت ناگزیر ہے۔
اسی دوران انہوں نے اعلان کیا کہ بی آر ایس جلد ہی ایک تفصیلی پریزنٹیشن اور دستاویز جاری کرے گی جس میں کانگریس حکومت کے دور میں سرکاری املاک اور زمینوں کے لین دین سے متعلق اپنے الزامات اور مؤقف کو پیش کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں عائد کیے گئے ان الزامات پر کانگریس حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں میں ان بیانات پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ردعمل متوقع ہے۔
