Metro Transparency
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون نے مجوزہ حیدرآباد میٹرو ٹیک اوور معاملے پر کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تمام مالی انتظامات، منظوریوں اور معاہدوں کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اس اہم منصوبے سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم نہیں کر رہی۔
بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں داسوجو سراون نے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی خزانے سے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، تاہم شہریوں کو اس بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر منصوبے کی تفصیلات خفیہ رکھی گئیں تو اس سے جائیداد کے شعبے میں ناجائز منافع خوری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راو کی حکومت نے 2014 کے بعد حیدرآباد میٹرو ریل منصوبے کے بیشتر حصے کو مکمل کیا تھا اور اسے ایک عالمی معیار کے شہری ٹرانسپورٹ نظام میں تبدیل کیا، جس سے روزانہ تقریباً 500000 مسافر استفادہ کرتے ہیں۔
مالی معاملات پر سوالات | Metro Transparency
داسوجو سراون نے منصوبے کے لیے اختیار کی گئی مالی حکمت عملی پر کئی سوالات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت نے تقریباً 2940 کروڑ روپے ایکویٹی حصول، مارجن منی اور پراسیسنگ چارجز کی مد میں خرچ کیے، جبکہ 13600 کروڑ روپے کے مجوزہ قرض کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قرض فراہم کرنے والے ادارے کی شناخت ظاہر کرے۔ مزید برآں انہوں نے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ آیا کابینہ نے میٹرو ٹیک اوور کی تجویز کو باضابطہ منظوری دی ہے یا نہیں۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ حکومت کو اس لین دین سے وابستہ ہر مالی ذمہ داری کی تفصیل عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندگان کو مکمل شفافیت کا حق حاصل ہے اور کسی بھی بڑے مالی فیصلے کو پوشیدہ نہیں رکھا جانا چاہیے۔
زمین اور اثاثوں سے متعلق خدشات | Metro Transparency
داسوجو سراون نے میٹرو سے وابستہ زمینوں اور دیگر اثاثوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے تقریباً 280 ایکڑ میٹرو اراضی، 57 میٹرو اسٹیشنوں اور لگ بھگ 20 ملین مربع فٹ تجارتی جگہ سے متعلق مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں ہائی ٹیک سٹی سے شمش آباد ہوائی اڈے تک مجوزہ میٹرو کوریڈور کو سیاسی اختلافات کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب وہی حکومت فیوچر سٹی منصوبے کا حوالہ دے کر میٹرو کی توسیع کو درست قرار دے رہی ہے۔
مزید یہ کہ داسوجو سراون نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ میٹرو ٹیک اوور سے متعلق تمام معاہدے، منظوری نامے اور مالی ریکارڈ عوامی سطح پر جاری کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایسا کرنے سے منصوبے کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور مالی اثرات سے متعلق پائے جانے والے خدشات دور کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت اور جوابدہی کسی بھی بڑے عوامی منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام متعلقہ معلومات عوام کے سامنے رکھ کر اعتماد کو مضبوط بنائے۔
