حیدرآباد:گورنر جشنو دیو ورما نے ہفتہ کے روز بنجارہ ہلز میں منعقدہ یوتھ پارلیمنٹ 2025 کے شاندار فائنل سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو بھارت کے جمہوری مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ باشعور اور متحرک طلبہ ہی آنے والے برسوں میں جمہوری اقدار کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے، اسی لیے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ شہری تعلیمی پروگرام اسکولی طلبہ کے لیے حیدرآباد ضلع انتظامیہ نے محکمہ اسکولی تعلیم کے تحت منعقد کیا۔ پروگرام کی قیادت ضلع تعلیمی افسر روہنی نے کی، جبکہ اکشنا گروپ نے تکنیکی اور تنظیمی تعاون فراہم کیا۔ اس کے علاوہ روٹری لیک ڈسٹرکٹ نے اس تقریب کی سرپرستی کی، جس سے اجتماعی کوشش نمایاں ہوئی۔
تقریب میں ٹرانسپورٹ اور بی سی ویلفیئر کے وزیر پونم پربھاکر بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور والدین سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو مستقبل کے قائدین اور سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے اہل قرار دیا۔
تجرباتی تعلیم کی اہمیت | Youth Parliament
گورنر جشنو دیو ورما نے کہا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں جمہوری نظام کے بنیادی ستون ہیں، جو قوانین، پالیسیوں اور قومی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق تجرباتی تعلیم کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے طلبہ کی جانب سے تیار کردہ وائٹ پیپر کو سراہا اور اسے موجودہ نسل کی امنگوں اور مستقبل کے خوابوں کا عملی خاکہ قرار دیا۔ مزید یہ کہ طالبات کی نمایاں شرکت کو انہوں نے ایک خاموش مگر اثر انگیز جمہوری انقلاب سے تعبیر کیا۔
نوجوانوں کی شمولیت اور حوصلہ افزائی | Youth Parliament
اس موقع پر گورنر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ضلعی سطح کے انعامات اور اسناد بھی پیش کیں۔ دوسری جانب وزیر پونم پربھاکر نے اپنی طالب علمی سے عوامی سیاست تک کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باخبر نوجوان ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ، ماک اسمبلی اور ماڈل یو این جیسے پروگرام طلبہ کو قانون ساز اداروں کے عملی کام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کو تلنگانہ کے تمام اضلاع تک وسعت دی جائے۔
تقریب میں اکشنا گروپ کی نمائندگی انجلی گپتا اور انکور گپتا نے کی، جبکہ روٹری لیک ڈسٹرکٹ کی جانب سے سنیل سراف اور راج شیکھر شریک ہوئے۔ یوں یہ پروگرام طلبہ کے جمہوری وژن اور قیادی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
