حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور سابق رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے داؤس دورے پر سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کے سرمایہ کاری دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی دوروں کے باوجود زمینی سطح پر نتائج سامنے نہیں آ رہے۔
وزیر اعلیٰ کی قیادت میں تلنگانہ کا وفد عالمی اقتصادی فورم 2026 میں شرکت کے لیے داؤس روانہ ہوا ہے، جو 23 جنوری تک جاری رہے گا۔ حکومت کے مطابق اس دورے کا مقصد تلنگانہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، تاہم اپوزیشن ان دعوؤں کو محض اعلانات تک محدود قرار دے رہی ہے۔
کویتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ دورہ صرف ایک پرواز سے جانا اور دوسری سے واپس آنا بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے تلنگانہ کو عملی طور پر کیا دیا ہے۔
مفاہمتی یادداشتوں پر سوال | Investment Claims
کویتا نے یاد دلایا کہ حکومت نے مالی سال 2024 کے دوران 40,232 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے دعوے کیے تھے۔ اسی طرح 2025 میں داؤس اجلاسوں کے ذریعے 1.78 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے حیدرآباد میں منعقدہ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کا بھی حوالہ دیا، جہاں 5.75 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آئے تھے۔
سابق ایم ایل سی نے سوال کیا کہ داؤس اور تلنگانہ رائزنگ سمٹ میں دستخط شدہ کتنی مفاہمتی یادداشتیں عملی صنعتوں میں تبدیل ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ان سرمایہ کاری دعوؤں سے حقیقت میں کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
وائٹ پیپر کا مطالبہ | Investment Claims
کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرمایہ کاری سے متعلق ایک جامع وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی سرمایہ کاری، فعال منصوبوں اور روزگار کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عالمی سمٹوں پر عوامی خزانے سے بھاری رقوم خرچ کی جا رہی ہیں تو شفافیت حکومت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے۔ کویتا کے مطابق صرف دعوے کافی نہیں، بلکہ نتائج ہی اصل کسوٹی ہیں۔
దావోస్ ట్రిప్ దండగ
ఎక్కే విమానం – దిగే విమానం .. రూ.లక్షల కోట్ల పెట్టుబడుల ప్రచారం తప్ప రెండేళ్లలో తెలంగాణకు మీరు తెచ్చిందేమిటి ముఖ్యమంత్రి గారు
2024 ఆర్థిక సంవత్సరంలో రూ.40,232 కోట్లు, 2025లో రూ.1.78 లక్షల కోట్ల పెట్టుబడులు దావోస్ వరల్డ్ ఎకనామిక్ ఫోరం సమ్మిట్ లో వచ్చినట్టు…
— Kavitha Kalvakuntla (@RaoKavitha) January 19, 2026
