حیدرآباد: سماجی تلنگانہ کے قیام کے لیے متحدہ طور پر آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریاست میں تلنگانہ کی شناخت اور اس کے وجود کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور نظریاتی سیاسی جماعت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد محض سیاسی نہیں بلکہ عوامی امنگوں کی ترجمان ہے، جس میں ہر طبقے کی شمولیت ضروری ہے۔
بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی کے دفتر میں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور نمائندوں نے کویتا سے ملاقات کر کے بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر تلنگانہ تحریک سے وابستہ جے اے سی قائدین، عوامی تنظیمیں، سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی یونینیں، ذات پات پر مبنی تنظیمیں اور مختلف یونیورسٹیوں کی طلبہ تنظیموں کے قائدین موجود تھے۔
دفتر کے باہر اور اندر تلنگانہ جاگروتی کے کارکنان اور حامیوں کا زبردست ہجوم دیکھا گیا۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے کارکنان، طلبہ، مزدور یونینوں کے نمائندے اور تلنگانہ تحریک کے کارکنان ’’جئے کویتا اکا‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے ماحول کو گرماتے رہے، جس سے دفتر حامیوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔
مختلف تنظیموں کا اعتماد اور یکجہتی | Social Telangana
اس موقع پر موجود نمائندوں نے کہا کہ تلنگانہ کے تشخص اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی قیادت کا ساتھ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کویتا کی قیادت میں قائم ہونے والی آئندہ سیاسی جماعت کو ان کی مکمل حمایت حاصل رہے گی اور وہ اس جدوجہد میں قدم بہ قدم ساتھ رہیں گے۔
سنگارینی مزدور، ایچ ایم ایس، سرکاری ملازمین کی یونینیں، بی سی تنظیمیں، تمام یونیورسٹیوں کی طلبہ تنظیمیں، پہلے اور دوسرے مرحلے کی تلنگانہ تحریک کی جے اے سی، تلنگانہ علاقائی تحریک سمیتی، تلنگانہ ریاستی جہد کاروں کی جے اے سی، جے اے سی اسٹیٹ کمیٹی، تلنگانہ پولیٹیکل جے اے سی، آٹو یونین کے قائدین، خواتین تنظیمیں اور دیگر عوامی تنظیمیں اس ملاقات میں شامل رہیں۔
تمام نمائندوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کویتا کی قیادت میں قائم ہونے والی جماعت کے ذریعے تلنگانہ میں تمام طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد سماجی انصاف اور علاقائی وقار کی علامت بن سکتی ہے۔
کویتا کا ردعمل اور آئندہ لائحہ عمل | Social Telangana
کلواکنٹلہ کویتا نے تمام شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں سے آ کر اعتماد کا اظہار کرنے والے ہر فرد کی وہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق تلنگانہ کے عوام کی امنگوں کے مطابق ان کی جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ جمہوری طریقہ کار پر یقین رکھنے والی اس تحریک کو تمام طبقات کی مشترکہ حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی تلنگانہ کا خواب تبھی حقیقت بن سکتا ہے جب عوام متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
