حیدرآباد: حضورآباد کے ایم ایل اے پڈی کاوشک ریڈی نے پیر کو اسمبلی میں انکشاف کیا کہ ان کے حلقے میں ایک اہم آبپاشی ڈھانچے کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مرمت کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت کارروائی نہ ہونے پر تقریباً 7,000 ایکڑ اراضی پانی سے محروم ہو سکتی ہے۔
اسمبلی کے سوالات کے دوران بات کرتے ہوئے کاوشک ریڈی نے الزام لگایا کہ تنوگولا چیک ڈیم کو جان بوجھ کر بارودی مواد سے تباہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اس واقعے کو میڈیگڈہ سانحے سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق، دونوں واقعات کا طریقہ کار ایک جیسا ہے۔
ربی سیزن پر اثر کا خدشہ | Huzurabad Irrigation Blast
اسی دوران، کانگریس ارکان نے کاوشک ریڈی کی تقریر میں مداخلت کی۔ اس پر اسپیکر گددم پرساد کمار نے مداخلت کرتے ہوئے بحث کو آگے بڑھایا۔ بعد ازاں، بی آر ایس ایم ایل اے کوٹھا پربھاکر ریڈی کو بولنے کا موقع دیا گیا۔
کاوشک ریڈی نے خبردار کیا کہ مرمت میں تاخیر ربی سیزن کو متاثر کرے گی۔ ان کے مطابق، کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی معیشت کا دارومدار انہی آبپاشی ذرائع پر ہے۔ اس لیے حکومت کو فوری ترجیح دینی چاہیے۔
کسانوں کے مفاد میں فوری اقدام کی ضرورت | Huzurabad Irrigation Blast
مزید برآں، کاوشک ریڈی نے کہا کہ حضورآباد کے عوام بہتر آبی انتظام کے حقدار ہیں۔ ان کے مطابق، بنیادی انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال زرعی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
آخر میں، واقعے کے بعد بی آر ایس اور کانگریس ارکان کے درمیان مختصر تلخ کلامی ہوئی۔ اس سے معاملے کی حساسیت واضح ہوتی ہے۔
