حیدرآباد: انٹرمیڈیٹ بورڈ نے طلبہ کے مستقبل کے تحفظ اور امتحانی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے سالانہ امتحانات سخت نگرانی میں کرانے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ حکام کے مطابق اس سال نگرانی کے انتظامات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ شفاف امتحانی نظام یقینی بنایا جا سکے۔
بورڈ کے مطابق عملی امتحانات کا آغاز فروری کی 2 تاریخ سے ہوگا، جبکہ تحریری امتحانات فروری کی 25 تاریخ سے شروع کیے جائیں گے۔ اس سال تقریباً 10 لاکھ طلبہ امتحانات میں شریک ہوں گے، جو ریاست کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد بتائی جا رہی ہے۔
ریاست بھر میں 1,490 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ امتحانات کے پرامن انعقاد کے لیے تقریباً 45,000 نگران اساتذہ تعینات کیے جائیں گے۔ گزشتہ برس یہ تعداد 30,000 کے قریب تھی، تاہم طلبہ کی بڑھتی تعداد اور سخت نگرانی کے پیش نظر اس میں اضافہ کیا گیا ہے۔
امتحانی نظام میں بڑی تبدیلی | Intermediate Exams
امتحانی شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بورڈ نے فروری 2026 سے عملی امتحانات میں جمبلنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت طلبہ اپنے کالج کے بجائے دوسرے کالج میں عملی امتحان دیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نقل اور جانبداری کے امکانات نمایاں طور پر کم ہوں گے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ نظام سرکاری کالجوں میں نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد اسے نجی کالجوں تک توسیع دی جائے گی۔ بورڈ نے اضافی عملہ اور فلائنگ اسکواڈس کی تعیناتی کا بھی منصوبہ بنایا ہے تاکہ کسی بھی بے قاعدگی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
نگرانی کے جدید انتظامات | Intermediate Exams
امتحانی مراکز پر بیٹھنے والے اسکواڈس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی نگرانی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مراکز کا معائنہ کریں اور طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائیں۔
حکام کے مطابق اس سال پہلی مرتبہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں شریک طلبہ کی تعداد 10 لاکھ کے قریب پہنچی ہے، جسے غیر معمولی شرکت قرار دیا جا رہا ہے۔ مارچ 2025 کے امتحانات کے دوران نجی کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تھے، تاہم انہیں مکمل طور پر کنٹرول سینٹر سے نہیں جوڑا جا سکا تھا۔
اس سال بورڈ نے 1,000 کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کو کمانڈ کنٹرول سینٹر سے جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس کام کا تقریباً نصف حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کی جائے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
سینئر حکام نے واضح کیا کہ امتحانات غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد کیے جائیں گے اور اجتماعی نقل کی کسی بھی کوشش کو سختی سے روکا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات طلبہ کے اعتماد اور امتحانی نظام کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
