حیدرآباد: نجومی وینو سوامی کے میڈارم سَمّکا سرّکا جاترا سے متعلق متنازع بیانات کے بعد تلنگانہ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف تنظیموں نے ان پر ہندو دیوی دیوتاؤں اور علاقائی ثقافت کی توہین کا الزام عائد کیا ہے۔
وینو سوامی اس وقت شہرت میں آئے تھے جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اداکار اکینینی ناگا چیتنیا اور سمانتا کی طلاق کی پیش گوئی کی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے میڈارم جاترا کے حوالے سے ایسے تبصرے کیے جن پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے تقریباً ایک کروڑ عقیدت مند سَمّکا سرّکا جاترا میں شریک ہوئے۔ ان کے مطابق تروپتی کے وینکٹیشورا مندر کے درشن کرنے والے کئی عقیدت مند منتیں پوری کرنے کے لیے میڈارم بھی پہنچے۔
متنازع دعوے اور بیانات | Medaram Controversy
وینو سوامی نے دعویٰ کیا کہ جاترا کے دوران عقیدت مندوں نے گڑ کو سونے کے طور پر دیویوں کو نذر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موقع پر بکریوں کی قربانی دی گئی اور شراب نوشی کی گئی۔
ان کے مطابق لاکھوں بکریاں قربان کی گئیں اور اس سے جڑی رقم سے جوبلی ہلز میں ایک لگژری ولا خریدا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ جاترا کے دوران شراب کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
تلنگانہ میں احتجاج اور مطالبات | Medaram Controversy
ایک اور بیان میں وینو سوامی نے کہا کہ گوشت کھانے والے عقیدت مند بھی وینکٹیشورا مندر جاتے ہیں، جس پر مزید ناراضگی دیکھنے میں آئی۔ ان بیانات کے بعد تلنگانہ بھر میں ثقافتی اور سماجی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئیں۔
تنظیموں نے الزام لگایا کہ ان تبصروں کے ذریعے ہندو عقائد کی توہین کی گئی اور تلنگانہ کے عوام کو عادی شرابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ مظاہرین نے فوری عوامی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
