حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے جوبلی ہلز ضمنی انتخاب کے دوران یوسف گوڑہ میں منعقدہ روڈ شو میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ نے فلاحی اسکیمیں منسوخ کر کے عوامی پیسے کو روک لیا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے سوال اٹھایا، “کیا یہ حکومت کا پیسہ تمھارے ماموں یا والد کا ہے؟ اگر عوام کا پیسہ عوام کو نہ دیا گیا، تو ہم خود وزیر اعلیٰ کو یوسف گوڑہ چوراہے پر لا کر رقم تقسیم کریں گے۔”
دولت کی تقسیم یا ووٹوں کی خرید و فروخت؟ | Jubilee Hills Verdict
KTR نے دعویٰ کیا کہ ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس پارٹی جیتنے کے لیے کروڑوں خرچ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ اب تک 250 کروڑ روپۓ خرچ کر چکے ہیں، اور مختلف علاقوں جیسے شیخ پیٹ، یوسف گوڑہ، ایرہ گڈہ، اور بورابنڈہ میں ہر گھر کو 4,000 سے 6,000 روپۓ تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، KTR کا کہنا تھا کہ نچلی سطح کے کانگریسی قائدین نے کمیشن کاٹ کر صرف 2,000 روپۓ ہی عوام تک پہنچائے۔
انہوں نے ووٹرز کو خبردار کیا کہ یہ رقم چند دن میں ختم ہو جائے گی، لیکن اس کے بدلے جو ووٹ دیا جائے گا وہ اگلے پانچ برسوں پر اثر انداز ہو گا۔ ان کے مطابق، “یہ وقتی رقم مت دیکھیں، اپنی زندگی کے بارے میں سوچیں۔”
وزیراعلیٰ کا انجام یا نیا آغاز؟ | Jubilee Hills Verdict
KTR نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے تمام سروے ان کی ہار ظاہر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف 14 وزرا حلقے میں دوڑ رہے ہیں، اور دوسری طرف وزیر اعلیٰ بندھی ٹانگوں کے ساتھ مہم چلا رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ کانگریس کے کچھ کارکن ووٹرز کو ڈرا دھمکا کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ “اگر یہ لوگ جیت گئے تو کیا ہمیں سکون سے جینے دیں گے؟” KTR نے سوال اٹھایا۔
ان کے بقول، جوبلی ہلز کا فیصلہ صرف ایک سیٹ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ وزیراعلیٰ کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی آر ایس کو ووٹ دے کر “جھوٹے وعدوں” کے خلاف فیصلہ سنائیں۔
