حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد کے قدیم شہر میں واقع تاریخی بوم رکن الدولہ جھیل کی تزئین و آرائش کے منصوبے کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے اس منصوبے کو عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے جاری کام کو روکنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
جائیداد سے متعلق تنازع | Bum-Rukn-ud-Dowla Lake
عدالتی حکم کے مطابق، حیدرآباد رورل اینڈ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HYDRAA) کو جھیل کی مرمت اور خوبصورتی کے کام کو مکمل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ منصوبے کا تقریباً 90 فیصد کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، اور اب اس میں رکاوٹ ڈالنا عوامی مفاد کے خلاف سمجھا گیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی زمین کا کچھ حصہ جھیل کے فل ٹینک لیول (FTL) میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، جسٹس وجیا سین ریڈی نے وضاحت کی کہ ایسے مالکان معاوضہ حاصل کرنے کے لیے Transferable Development Rights (TDR) کا طریقہ اختیار کریں، تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہو۔
عدالت نے کہا کہ جھیلوں کے تحفظ اور بحالی کے ایسے منصوبے شہر کی ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شہری ماحول میں بہتری کی کوششیں | Bum-Rukn-ud-Dowla Lake
جسٹس ریڈی نے HYDRAA کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شہری جھیلوں کی بحالی نہ صرف تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ماحول اور عوامی فلاح کے لیے بھی مثبت قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے حیدرآباد کے قدرتی وسائل محفوظ رہیں گے اور شہری خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔
تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بوم رکن الدولہ جھیل کی تزئین و آرائش کے منصوبے کو حیدرآباد کے شہری ورثے کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
