واشنگٹن ۔ امریکی شہری منگل 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔ مشی گن کی سینیٹ نشست پر دنیا بھر کی نظر ہے۔ وہاں مصری تارکین وطن کے بیٹے اور ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید زیادہ تر جائزوں میں آگے ہیں۔ اگر وہ جیت گئے تو امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بنیں گے۔
اس الیکشن میں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہے۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کے لیے پولنگ ہوگی۔ ریپبلکنز کو دونوں ایوانوں میں معمولی برتری حاصل ہے۔ اس لیے ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں تقریباً چار نشستیں مزید جیتنی ہوں گی۔
قومی جائزے ڈیموکریٹس کے حق میں ہیں۔ آخری ہفتے کے اوسط جائزے انہیں 7 سے 10 پوائنٹس آگے دکھاتے ہیں۔ تاہم سینیٹ کا مقابلہ قریبی ہے، اور جائزے نتائج نہیں ہوتے۔
عبدل السید 31 اکتوبر کو 42 برس کے ہوئے۔ انہوں نے روڈز اسکالر کے طور پر آکسفورڈ اور پھر کولمبیا سے تعلیم حاصل کی۔ وہ ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ رہے۔ اس کے بعد انہوں نے 2022 سے 2025 تک وین کاؤنٹی کا صحت کا شعبہ سنبھالا۔
انہوں نے 4 اگست کی پرائمری میں ہیلی اسٹیونز کو ہرایا۔ اب ان کا مقابلہ سابق ریپبلکن رکن کانگریس مائیک راجرز سے ہے۔ اکتوبر کے آخری جائزوں میں وہ 4 سے 7 پوائنٹس آگے رہے۔
بھارتی خاندانوں پر اثرات | US Midterm Elections
عبدل السید سب کے لیے صحت بیمہ اور مزدوروں کے حقوق کی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے بھی مخالف ہیں۔ اسی لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے ان پر حملے کیے۔
دوسری جانب ہند نژاد ارکان کا سموسہ کاکس چھ سے گھٹ کر چار رہ سکتا ہے۔ اس کی وجہ راجہ کرشنامورتی اور شری تھانیدار کی پرائمری میں شکست ہے۔ اسی دوران ایریزونا میں امیش شاہ آگے ہیں، جبکہ اوہائیو میں وویک رامسوامی سخت مقابلے میں ہیں۔
حیدرآباد کے کئی خاندانوں کے بچے امریکہ میں پڑھتے یا کام کرتے ہیں۔ ایچ ون بی ویزوں میں سے تقریباً 70 فیصد بھارتیوں کو ملتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بعض نئی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس لگائی ہے، جسے عدالت میں چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ او پی ٹی کو محدود کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
ڈیموکریٹس ایوان جیت لیں تو وہ قانون سازی روک سکیں گے، لیکن انتظامی احکامات واپس نہیں لے سکیں گے۔ بھارتی ناظرین کو بدھ کی صبح جلدی اٹھنا ہوگا۔ پہلے پولنگ اسٹیشن بھارتی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے بند ہوں گے۔
