یروشلم ۔ اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات میں کسی اتحاد کو اکثریت نہیں ملی۔ نتیجتاً برسوں اقتدار سے دور عرب جماعتیں اب حکومت کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ گنتی کے بعد 120 رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں۔ آئزنکوٹ کے اتحاد کے پاس 48 اور دو عرب فہرستوں کے پاس ریکارڈ 19 نشستیں ہیں۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیٹی 4 نومبر کو نتائج کی توثیق کرے گی۔ اس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ رہنماؤں سے مشاورت شروع کریں گے۔
ووٹنگ کی شرح 77.9 فیصد رہی جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں 2022 میں یہ شرح 70.6 فیصد تھی۔ سبکدوش کنیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس 64 نشستیں تھیں۔
لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ آئزنکوٹ کی نئی جماعت یاشار نے 21 نشستیں جیتیں۔ جوائنٹ لسٹ نے 11 اور منصور عباس کی رعام نے 8 نشستیں حاصل کیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں گزشتہ کنیسٹ کے مقابلے تقریباً دوگنی ہیں۔
عرب جماعتیں فیصلہ کن پوزیشن میں | Israel Election Results
اعداد و شمار نیتن یاہو کو ہٹانے کا ایک ہی راستہ دکھاتے ہیں۔ آئزنکوٹ کا اتحاد اور رعام مل کر 56 بنتے ہیں، جبکہ دونوں عرب فہرستوں کے ساتھ تعداد 67 ہو جاتی ہے۔ تاہم بیشتر یہودی اپوزیشن رہنماؤں نے عرب جماعتوں سے باضابطہ اتحاد مسترد کیا تھا۔
اس کے باوجود عرب رہنما لچک دکھا رہے ہیں۔ احمد طیبی کے مطابق ان کی جماعت آئزنکوٹ کی اقلیتی حکومت کی باہر سے حمایت کرے گی۔ اسی دوران منصور عباس نے نیتن یاہو کی جیت کو تباہ کن کہا تھا۔
نیتن یاہو کا کیمپ عرب علاقوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتا ہے۔ لیکن اس نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ اگر کوئی رہنما 61 تک نہ پہنچا تو اسرائیل میں ایک اور الیکشن ہو سکتا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے دونوں رہنماؤں میں فرق شاید لہجے کا ہو۔ آئزنکوٹ فلسطینی ریاست کے مخالف ہیں اور حماس کا عسکری ونگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ وہ غرب اردن کے باضابطہ الحاق کی مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت غیر جانبدار ہے، اور وزارت خارجہ نے اسرائیل سے تعلقات مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
