ٹرانسپورٹ ورکرس ہڑتال ختم، تحریری یقین دہانی | Transport Workers Strike
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں مجوزہ ٹرانسپورٹ ورکرس کی ہڑتال پیر کے روز واپس لے لی گئی۔ مزید برآں، ریاستی حکومت نے کئی اہم مطالبات پر تحریری یقین دہانی کرائی۔ اس فیصلے کے بعد احتجاجی پروگرام مؤخر کر دیا گیا۔
ٹی پی سی سی کے ترجمان سید نظام الدین نے گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ وزیر پونم پربھاکر نے اتوار کے روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تفصیلی بات چیت کی۔ اسی دوران، آٹو، کیب، لاری اور دیگر ٹرانسپورٹ تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
سید نظام الدین نے کہا کہ مزدور تنظیموں کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ جب حکومت مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہو تو مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔
حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے | Transport Workers Strike
آئی این ٹی یو سی کے جنرل سیکریٹری آر ڈی چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ یونینوں نے حکومت کے سامنے 14 مطالبات رکھے تھے۔ مزید برآں، حکومت نے اجلاس کی کارروائی میں تقریباً 10 مطالبات پر فوری تحریری یقین دہانی دی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم مسائل کے حل کے لیے مثبت رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یونینوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
سید نظام الدین نے کہا کہ آٹو رکشا میٹر کرایوں میں کئی برس سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مزید برآں، ایندھن، سی این جی، گاڑیوں، انشورنس، پرزہ جات اور مزدوری کے اخراجات مسلسل بڑھے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت نے اپنے 10 سالہ دور میں کرایوں پر نظرثانی نہیں کی۔ لہٰذا، موجودہ حکومت نے اس معاملے کے جائزے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی کرناٹک، تمل ناڈو اور مہاراشٹر کے کرایہ نظام کا بھی مطالعہ کرے گی۔
ویلفیئر بورڈ اور ای وی امداد | Transport Workers Strike
سید نظام الدین نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ورکرس ویلفیئر بورڈ کا مطالبہ 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اٹھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، کانگریس نے اسے اپنے انتخابی منشور میں بھی شامل کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ویلفیئر بورڈ کے قیام کا انتظامی عمل جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یوں، کارکنوں کو فلاحی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
آر ڈی چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ حکومت مزدور تنظیموں، ایپ پر مبنی ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور محکمہ محنت کے درمیان سہ فریقی مذاکرات بھی کرے گی۔ مزید برآں، ان مذاکرات میں ڈرائیوروں کو درپیش مسائل پر غور ہوگا۔
نمائندوں نے اولا، اوبر، ریپیڈو اور پورٹر سے متعلق مطالبات بھی پیش کیے۔ انہوں نے حکومت سے کم از کم بنیادی کرایہ، فی کلومیٹر اور فی منٹ نرخ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف کمرشیل رجسٹریشن والی گاڑیاں ہی ایپ پر مبنی مسافر اور مال برداری کی خدمات انجام دیں۔
سامان بردار گاڑیوں اور دیگر مطالبات | Transport Workers Strike
لاری ایسوسی ایشن کے نمائندے راجندر ریڈی نے سامان بردار گاڑیوں کے کارکنوں کو بھی ویلفیئر بورڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تقریباً 6.5 لاکھ مال بردار گاڑیاں چلتی ہیں۔ مزید برآں، لاکھوں خاندان اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔
سید نظام الدین نے بتایا کہ حکومت اہل آٹو مالکان کو گاڑیوں کو برقی ماڈل میں تبدیل کرنے کے لیے ₹1.50 لاکھ امداد دینے کی تجویز پر کام کر رہی ہے۔ لہٰذا، ڈرائیوروں پر مکمل مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت یا آر ٹی سی کی جانب سے بڑی تعداد میں برقی آٹو خریدنے کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ نجی ملکیت والے برقی آٹو آخری میل رابطہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
آر ڈی چندر شیکھر ریڈی نے کہا کہ حکومت نے انتخابی منشور میں کیے گئے ₹12,000 سالانہ امداد کے وعدے کو بھی دہرایا۔ مزید برآں، جی او نمبر 263 سے متعلق مطالبے پر بھی مثبت ردعمل دیا گیا۔
اپوزیشن پر سیاست کا الزام | Transport Workers Strike
سید نظام الدین نے مذاکرات کے دوران بعض یونین نمائندوں کی بی آر ایس بھون آمد پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ مزدور تنظیموں کو سیاسی محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی روزی روٹی کو سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔ لہٰذا، افواہوں کے بجائے مذاکرات اور تحریری یقین دہانیوں پر اعتماد کرنا بہتر ہوگا۔
راجندر ریڈی نے 15 سال سے زیادہ پرانی کمرشیل گاڑیوں کی فٹنس فیس کے معاملے میں حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ کی مداخلت سے آپریٹروں کو ریلیف ملا۔
آل انڈیا پروفیشنلز کانگریس کے نمائندے سید رؤف نے بھی کارکنوں کے مطالبات کی حمایت کی۔ تاہم، انہوں نے اپوزیشن پر مجوزہ ہڑتال کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے قیام کے بعد تقریباً 45,000 آٹو پرمٹ جاری کیے گئے۔ مزید برآں، اس اقدام سے آٹو خریدنے کی لاگت میں نمایاں کمی آئی۔
آخر میں، سید نظام الدین نے آٹو، کیب، لاری اور دیگر ٹرانسپورٹ کارکنوں سے حکومت کو وعدوں پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی فیصلوں کے لیے کابینہ اور متعلقہ محکموں کی منظوری ضروری ہوگی۔ یوں، مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے عمل درآمد کی نگرانی کی جانی چاہیے۔
