اقلیتی اداروں کے جائزے کا مطالبہ | Minority Institutions Review
حیدرآباد:۔ تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے تلنگانہ حکومت سے اقلیتی اداروں کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے مختلف اداروں کی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں کئی اہم خامیاں موجود ہیں۔
محمد مشتاق ملک نے تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، اردو اکیڈمی اور اقلیتی کمیشن کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران، انہوں نے یہ مطالبات تنظیم کی مجلسِ اعلیٰ کے اجلاس میں پیش کیے۔ یہ اجلاس اتوار کے روز تنظیم کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں کانگریس حکومت کے 32 ماہ کے دور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، شرکاء نے اقلیتی مسائل، اداروں کی کارکردگی اور مسلم سیاسی نمائندگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ محمد مشتاق ملک نے دعویٰ کیا کہ ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی رسائی اب بھی ناکافی ہے۔
وقف بورڈ کی شفافیت پر سوالات | Minority Institutions Review
محمد مشتاق ملک نے کہا کہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کا اجلاس گزشتہ 2 برس سے زیادہ عرصے سے منعقد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ عوام کے سامنے نہیں رکھی۔
انہوں نے کہا کہ صرف وقف ریکارڈ روم کا حصول یا منتقلی کافی نہیں ہوگی۔ لہٰذا، وقف انتظامیہ کے تمام معاملات کا مکمل جائزہ ضروری ہے۔ انہوں نے ریاست بھر میں وقف املاک کی مجموعی اراضی اور تخمینی مالیت ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
مزید برآں، انہوں نے عدالتوں میں زیر سماعت اور مبینہ تجاوزات کا شکار وقف جائیدادوں کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے وقف املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مکمل معلومات جاری کرنے پر زور دیا۔
محمد مشتاق ملک نے کہا کہ وقف انتظامیہ میں شفافیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اربوں روپے مالیت کی املاک کی موجودہ حیثیت جاننے کا حق حاصل ہے۔ یوں، اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔
انہوں نے درگاہ حضرت حسین شاہ ولی، جامعہ نظامیہ اور گٹلہ بیگم پیٹ سے متعلق وقف تنازعات کا بھی حوالہ دیا۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ متنازع وقف املاک کی مالیت ₹8 لاکھ کروڑ سے ₹10 لاکھ کروڑ تک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس رقم کا موازنہ تلنگانہ کے تقریباً 4 سالہ بجٹ سے بھی کیا۔
اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر تنقید | Minority Institutions Review
محمد مشتاق ملک نے تلنگانہ اسٹیٹ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ادارے کی سرگرمیاں زیادہ تر سلائی مشینوں کی تقسیم تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کو معاشی طور پر کمزور اقلیتوں کی حقیقی اقتصادی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ مزید برآں، خود روزگار، مالی امداد اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے مؤثر پروگرام شروع کیے جانے چاہییں۔
اس کے علاوہ، انہوں نے تعلیم، ہنر مندی اور روزگار سے متعلق منصوبوں کو بھی ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔ لہٰذا، اقلیتی نوجوانوں کو پائیدار روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
محمد مشتاق ملک نے تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی موجودہ کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ تاہم، ان کے مطابق زبان اور اس سے وابستہ اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اردو اکیڈمی کی اراضی لیز پر دینے سے متعلق فیصلوں میں بھی شفافیت کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ عوام کو اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ ایسے فیصلے کس نے کیے یا کیوں مؤخر کیے گئے۔
مسلم نمائندگی اور رسائی کے مسائل | Minority Institutions Review
اجلاس میں کانگریس حکومت کے دوران مسلم سیاسی نمائندگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محمد مشتاق ملک نے کہا کہ تقریباً 2 برس تک قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندگی نظرانداز رہی۔ بعد ازاں، سابق کرکٹر محمد اظہرالدین کو گورنر کوٹہ کے تحت نامزد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلمانوں کی قانون ساز اداروں میں زیادہ نمائندگی رہی ہے۔ مزید برآں، غیر منقسم آندھرا پردیش میں ایک وقت 5 مسلم ایم ایل سیز بھی موجود تھے۔
محمد مشتاق ملک نے دعویٰ کیا کہ کانگریس گزشتہ تقریباً 15 برس سے تلنگانہ میں اپنے ٹکٹ پر کسی مسلم امیدوار کو اسمبلی نہیں جتوا سکی۔ لہٰذا، پارٹی کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے اس بیان سے بھی اختلاف کیا کہ مسلمان اپنے نمائندے منتخب نہیں کرا سکے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ مختلف مواقع پر کانگریس کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کی اہمیت تسلیم کر چکے ہیں۔
محمد مشتاق ملک نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 20 اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دیگر برادریوں کے کانگریس امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم، پارٹی مسلم امیدواروں کے لیے دیگر طبقات کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
مؤثر اقلیتی اداروں کا مطالبہ | Minority Institutions Review
محمد مشتاق ملک نے کہا کہ حکومت میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام مسلمانوں کو ذمہ دار سرکاری شخصیات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی نمائندگی صرف علامتی تقرریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، تجربہ کار قیادت کو اہم ذمہ داریاں دی جانی چاہییں تاکہ وہ برادری کے مسائل مؤثر انداز میں حکومت کے سامنے رکھ سکے۔
آخر میں، محمد مشتاق ملک نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام اقلیتی اداروں کا جامع جائزہ لے۔ مزید برآں، تمام خالی عہدے فوری طور پر پُر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ادارے باقاعدہ اجلاس منعقد کریں، انتظامی اور مالی معلومات شائع کریں اور عوام کے لیے مؤثر شکایتی نظام قائم کریں۔
اجلاس میں تحریک مسلم شبان کے نائب صدر عبد الحق قمر، مجاہد مشتاق، مظہر علی بیگ اور حافظ عبد الحفیظ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
