ٹونیک شراب دکان الاٹمنٹ پر شفافیت کے سوالات | Liquor Shop Allocation
حیدرآباد:۔ جوبلی ہلز میں ٹونیک شراب دکان کی الاٹمنٹ پر محکمہ ایکسائز سے سوالات اٹھے ہیں۔ ایک سرکاری انکوائری میں ممکنہ آمدنی کے نقصان کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، دکان سے بڑی آمدنی حاصل ہوسکتی تھی۔ رپورٹ میں ایک حکمراں جماعت کے قائد کے قریبی شخص کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔
اسی دوران، نمستے تلنگانہ نے جمعہ کو اس معاملے پر خصوصی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کا عنوان تھا “قائد کے دوست کو ٹونیک نذرانہ”۔
اس رپورٹ کے بعد ریاستی سکریٹریٹ میں معاملے پر ہلچل مچ گئی۔ بعد ازاں، محکمہ ایکسائز نے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت جاری کی۔
ایکسائز افسر جیون کرن نے یہ جواب سکندرآباد ضلع محکمہ امتناع و ایکسائز افسر کے نام سے دیا۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق خط پر ان کا نام اور دستخط موجود نہیں تھے۔
نوٹس بورڈ پر گزٹ اطلاع کے دعوے | Liquor Shop Allocation
رپورٹ کے مطابق، حکومت نے ابتدائی داخلی انکوائری کی تفصیلات پہلے ہی ظاہر کی تھیں۔ اس انکوائری میں ریاست کو بڑے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر ہوا تھا۔
محکمہ ایکسائز نے کہا کہ افسران نے گزٹ اطلاع کئی نوٹس بورڈز پر لگائی تھی۔ ان میں سکندرآباد ضلع امتناع و ایکسائز افسر کا دفتر بھی شامل تھا۔
حیدرآباد ڈپٹی کمشنر اور حیدرآباد کمشنر کے دفاتر میں بھی اطلاع لگانے کا دعویٰ کیا گیا۔ محکمہ کے مطابق، جوبلی ہلز اسٹیشن ہاؤس افسر کے دفتر میں بھی اطلاع موجود تھی۔
تاہم، اطلاع لگانے کے طریقہ کار پر سوالات برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، نوٹس بورڈ پر اطلاع کتنی دیر رہی، یہ بھی اہم سوال بنا۔
ذرائع کی رپورٹ نے سرکاری انکوائری کے حوالے سے مختلف تصویر پیش کی۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ گزٹ کی نقل صرف ثبوت بنانے کے لیے لگائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، افسران نے چند منٹ میں اس کی تصاویر لیں۔ بعد ازاں، انہوں نے نوٹس بورڈز سے یہ نقول ہٹا دیں۔
یوں یہ سوال اٹھا کہ محکمہ نے ممکنہ درخواست گزاروں کو واقعی اطلاع دی یا نہیں۔ معاملے نے سرکاری عمل میں شفافیت پر بھی سوالات کھڑے کیے۔
درخواستوں اور قرعہ اندازی کے عمل پر بھی سوالات | Liquor Shop Allocation
رپورٹ نے سوال اٹھایا کہ زیادہ آمدنی والی دکان کے لیے پریس ریلیز کیوں جاری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ، محکمہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اطلاع کیوں نہیں دی۔
رپورٹ کے مطابق، محکمہ ایکسائز کی وضاحت نے ان سوالات کا جواب نہیں دیا۔ لہٰذا، تردید کے باوجود شفافیت سے متعلق خدشات برقرار رہے۔
دوسری جانب، تاجروں نے قرعہ اندازی کے لیے موصول 6 درخواستوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے تمام درخواستوں کو ایک ہی کاروباری گروپ سے جوڑنے کا الزام لگایا۔
تاجروں کے مطابق، درخواستیں بے نامی افراد کے ذریعے داخل کی گئیں۔ انہوں نے ان افراد کو ایک اہم قائد کے پیروکار بھی قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق، غیر جانب دار جانچ سے مبینہ روابط واضح ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی درخواستیں بھی جانچ کا اہم موضوع بن گئیں۔
تنازع کا بنیادی مرکز ٹونیک شراب دکان کی الاٹمنٹ میں شفافیت ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی اطلاع اور نوٹس بورڈ کے استعمال پر بھی سوالات ہیں۔
اسی دوران، قرعہ اندازی کے عمل نے بھی توجہ حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت نے معاملے کی داخلی جانچ پہلے ہی کی تھی۔
محکمہ ایکسائز اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ گزٹ اطلاع باضابطہ طور پر لگائی گئی۔ تاہم، ممکنہ آمدنی کے نقصان اور الاٹمنٹ کے عمل پر سوالات برقرار ہیں۔
