تلنگانہ میں بجلی کی طلب کا نیا ریکارڈ | Electricity Demand
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں بجلی کی طلب نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ 9 ستمبر کو طلب 19,543 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
پاور حکام کے مطابق، جمعرات کو طلب 19,467 میگاواٹ ریکارڈ ہوئی۔ اسی دوران، جمعہ کو یہ 18,954 میگاواٹ رہی۔
19,543 میگاواٹ کی طلب متحدہ ریاست اور تلنگانہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ ریکارڈ ریاست کے بجلی نظام پر بڑھتے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
شدید گرمی نے بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا۔ مزید برآں، کم بارش اور ایل نینو کے اثرات نے بھی صورتحال بدلی۔
پاور کمپنیوں کے حکام نے قومی سطح پر بھی طلب بڑھنے کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق، ملک میں بجلی کی طلب مزید 100 گیگاواٹ بڑھی ہے۔
گرمی اور کم بارش سے بجلی کی طلب میں اضافہ | Electricity Demand
عام طور پر اپریل اور مئی میں بجلی کی طلب زیادہ رہتی ہے۔ اس دوران شدید گرمی بجلی کے استعمال میں اضافہ کرتی ہے۔
تاہم، اس سال بارش کے موسم میں حالات مختلف رہے۔ کئی علاقوں میں موسم نے گرمی کے موسم جیسی صورتحال پیدا کی۔
ریاست میں بارش توقع کے مطابق نہیں ہوئی۔ اسی دوران، مختلف علاقوں میں درجہ حرارت بھی بڑھ گیا۔
چنانچہ بجلی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ زرعی شعبے کی کھپت نے بھی بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالا۔
ایک ہفتہ پہلے تک طلب 18,000 میگاواٹ سے کم تھی۔ تاہم، 9 ستمبر کو یہ اچانک 19,543 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
تازہ ریکارڈ سابقہ ریکارڈ سے تقریباً 1,000 میگاواٹ زیادہ ہے۔ لہٰذا، اس اضافے نے ریاستی بجلی نظام پر دباؤ واضح کردیا۔
بجلی کی خریداری پر ریاست کا بڑھتا انحصار | Electricity Demand
تلنگانہ میں روزانہ اوسط بجلی استعمال 310 ملین یونٹس تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، ریاستی پیداوار طلب کے مطابق تیزی سے نہیں بڑھی۔
ٹی جی جینکو روزانہ تقریباً 90 ملین یونٹس بجلی فراہم کرتی ہے۔ اس لیے ریاست کو مزید 140 ملین یونٹس مختلف ذرائع سے خریدنے پڑتے ہیں۔
ریاست اپنی روزانہ ضرورت کا نصف سے زیادہ بجلی خرید کر پورا کرتی ہے۔ مرکزی بجلی پیداوار مراکز بھی اس ضرورت میں اہم حصہ دیتے ہیں۔
ماہرین نے بجلی پیداوار کا نظام مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت بتائی۔
ماہرین نے آئندہ موسم گرما میں طلب مزید بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ اسی دوران، ریکارڈ طلب نے بجلی فراہمی کے انتظامات پر دباؤ بڑھایا۔
شدید گرمی، کم بارش اور زرعی کھپت نے صورتحال مزید مشکل بنائی۔ یوں تلنگانہ کے بجلی نظام کو بڑھتی طلب کے لیے مزید تیاری کرنا ہوگی۔
