منشیات فروش کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ | Cyberabad Drug Detention
حیدرآباد:۔ سائبرآباد پولیس کمشنر ڈاکٹر ایم رمیش نے مبینہ عادی منشیات فروش کے خلاف پریونٹیو ڈیٹینشن (پی ڈی) ایکٹ نافذ کردیا۔ ملزم کی عمر 36 سال ہے اور اس کا نام سچن گنگارام ماروتی چوہان ہے۔ پولیس کے مطابق، اس کے خلاف 2020 سے 2026 کے درمیان 3 ریاستوں میں 5 مقدمات درج ہوئے۔
پی ڈی ایکٹ کے تحت حراست | Cyberabad Drug Detention
پولیس کمشنر نے سچن چوہان کو پریونٹیو ڈیٹینشن کے تحت حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ پولیس نے اسے قانونی دفعات کے تحت ’ڈرگ آفینڈر‘ قرار دیا ہے۔ اس کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع سولا پور سے بتایا گیا ہے۔
حکم کے بعد پٹن چیرو پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے حراست کی کارروائی مکمل کی۔ پولیس نے اسے میڈچل ضلع کی چیرلاپلی مرکزی جیل منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق، اس کارروائی کا مقصد گانجا کی غیر قانونی خریداری اور ترسیل روکنا ہے۔ مزید برآں، حکام اس کے ذریعے گانجا کی تقسیم کا سلسلہ بھی روکنا چاہتے ہیں۔
3 ریاستوں میں 5 منشیات کے مقدمات | Cyberabad Drug Detention
سائبرآباد پولیس کے مطابق، چوہان مبینہ طور پر بین ریاستی گانجا اسمگلنگ نیٹ ورک چلاتا تھا۔ اس نیٹ ورک کے روابط تلنگانہ، مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش اور اوڈیشہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ آندھرا پردیش اور اوڈیشہ سے بڑی مقدار میں گانجا حاصل کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق، وہ منشیات مختلف مقامات تک پہنچاتا تھا۔ وہاں سے اس کے ساتھی اسے آگے تقسیم کرتے تھے۔ مزید برآں، چوہان مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں اور منشیات استعمال کرنے والوں کو زیادہ قیمت پر گانجا فراہم کرتا تھا۔ اس سرگرمی سے وہ غیر قانونی منافع کماتا تھا۔
پولیس بیان کے مطابق، چوہان کے خلاف 2020 سے 2026 کے درمیان 5 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے 3 مقدمات تلنگانہ میں درج کیے گئے۔ مہاراشٹر اور کرناٹک میں ایک ایک مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے ان مقدمات کو اس کی مبینہ بین ریاستی سرگرمیوں کا ثبوت قرار دیا۔
پولیس کمشنر نے چوہان کے ساتھیوں کے نیٹ ورک کا بھی حوالہ دیا۔ ان ساتھیوں پر گانجا حاصل کرنے، منتقل کرنے اور تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق، اس نیٹ ورک کے روابط سائبرآباد پولیس کمشنریٹ سمیت مختلف علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
عوامی صحت اور امن عامہ سے متعلق خدشات | Cyberabad Drug Detention
سائبرآباد پولیس کے مطابق، چوہان کی مبینہ بار بار منشیات فروشی نے عوامی صحت کو خطرے میں ڈالا۔ پولیس نے اس سرگرمی کو امن عامہ کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا۔ اسی بنیاد پر کمشنر نے احتیاطی حراست کا حکم جاری کیا۔
پولیس کمشنر نے فیصلہ کرتے وقت مبینہ بین ریاستی نیٹ ورک اور 5 مقدمات کو مدنظر رکھا۔ حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد گانجا کی خریداری اور فراہمی سے متعلق مزید سرگرمیاں روکنا ہے۔
پولیس بیان میں چوہان کے والد کا نام مرحوم گنگارام ماروتی چوہان بتایا گیا ہے۔ اس کا رہائشی تعلق مہاراشٹر کے ضلع سولا پور سے ہے۔ کمشنر کے حکم کے بعد پٹن چیرو پولیس نے حراست کی کارروائی انجام دی۔ بعد ازاں، حکام نے اسے میڈچل ضلع کی چیرلاپلی مرکزی جیل میں داخل کرادیا۔
