امیت شاہ سے تلنگانہ پر وائٹ پیپر کا مطالبہ | Telangana White Paper
حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر مہیش کمار گوڑ نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اہم مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ سے متعلق مرکزی حکومت کے وعدوں، فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ امیت شاہ کی حیدرآباد میں عوامی میٹنگ اور جمہوریت کے تحفظ سے متعلق پدیاترا کے تناظر میں سامنے آیا۔
مرکزی حکومت کے وعدوں پر سوالات | Telangana White Paper
مہیش کمار گوڑ نے گزشتہ 12 سال کے دوران بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کو سیاسی تقریروں اور ریلیوں کے بجائے تلنگانہ کے زیر التوا وعدوں پر جواب دینا چاہیے۔ مزید برآں، انہوں نے ریاست کی تقسیم کے وقت کیے گئے وعدوں کی تفصیلات طلب کیں۔
ٹی پی سی سی صدر نے قاضی پیٹ ریلوے کوچ فیکٹری اور بیاّرم اسٹیل پلانٹ کی موجودہ صورتحال پر وضاحت مانگی۔ انہوں نے تلنگانہ کے آبپاشی منصوبوں کو قومی پروجیکٹ کا درجہ دینے سے متعلق مرکز کا موقف بھی پوچھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ریاست کو جاری کردہ فنڈز اور ٹیکس میں اس کے حصے کی تفصیلات طلب کیں۔
مہیش کمار گوڑ نے مرکزی حکومت سے مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم پر جواب مانگا۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکز کے اقدامات پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت پر تنقید سے پہلے بی جے پی قیادت کو اپنی کارکردگی بتانی چاہیے۔ ان کے مطابق، تلنگانہ کے عوام اپنے حقوق، ترقی، روزگار اور فلاحی اقدامات کے بارے میں جواب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو نظر انداز کرکے امیت شاہ کا دورہ زیادہ مفید ثابت نہیں ہوگا۔
ووٹر فہرستوں اور جمہوری حقوق کا معاملہ | Telangana White Paper
مہیش کمار گوڑ نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے۔ لہٰذا، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے دوران اس حق کا تحفظ ضروری ہے۔
انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، کسی بھی اہل ووٹر کو اپنا حق رائے دہی کھونے نہیں دینا چاہیے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے معاملے بار بار اٹھاتی رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے کانگریس پر تنقید کرتی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور ووٹروں کے تحفظ پر واضح جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے دعووں میں انتخابی حقوق اور طریقہ کار سے متعلق خدشات بھی شامل ہونے چاہئیں۔
’آر آر ٹیکس‘ سے متعلق بی جے پی کے الزامات کو بھی مسترد | Telangana White Paper
ٹی پی سی سی صدر نے تلنگانہ میں مبینہ ’آر آر ٹیکس‘ سے متعلق بی جے پی کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے انہیں بے بنیاد سیاسی الزامات قرار دیا۔ ان کا الزام تھا کہ بی جے پی ریاست کی ترقیاتی ضروریات پر بات کرنے کے بجائے سیاسی الزامات عائد کررہی ہے۔
مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس حکومت کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے فلاحی پروگرام نافذ کررہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدامات مرکزی حکومت کی جانب سے مبینہ امتیازی فنڈنگ کے باوجود جاری ہیں۔ دوسری جانب، انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوامی مسائل کے بجائے کانگریس پر تنقید کو ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے تلنگانہ میں بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ مہیش کمار گوڑ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی اپنی موجودہ 8 نشستیں بھی کھوسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کا سیاسی اندازہ ہے۔ ان کا مزید الزام تھا کہ بی جے پی انتخابی ادوار میں تلنگانہ کے مسائل اٹھاتی ہے اور بعد میں انہیں نظر انداز کردیتی ہے۔
انہوں نے مذہب اور جذبات کی بنیاد پر سیاسی اپیلوں پر بھی تنقید کی۔
بی آر ایس کی سابقہ حکومت پر تنقید | Telangana White Paper
مہیش کمار گوڑ نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کی سابقہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق حکومت نے تلنگانہ پر قرض کا بوجھ بڑھایا۔ ان کے مطابق، بی آر ایس حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی اور خاندانی طرز حکمرانی کو فروغ دیا۔
انہوں نے بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان مبینہ غیر رسمی سیاسی مفاہمت سے متعلق شکوک کا بھی ذکر کیا۔ تاہم، انہوں نے اسے سیاسی الزام کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کسی باضابطہ معاہدے کا ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹی پی سی سی صدر نے الزام لگایا کہ بی جے پی، بی آر ایس کی کمزور ہوتی سیاسی جگہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تلنگانہ کے ووٹر دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ریاست کی ترقی، عوامی فلاح اور آئینی حقوق کے مسائل اٹھاتی رہے گی۔
مہیش کمار گوڑ نے دوبارہ مرکزی حکومت سے جامع وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پورے کیے گئے وعدوں، جاری کردہ فنڈز اور روزگار کے مواقع کی تفصیلات طلب کیں۔ کسانوں کی مدد اور انتخابی فہرستوں میں اہل ووٹروں کے تحفظ سے متعلق سوالات کے جواب بھی مانگے۔
انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کو حیدرآباد کے دورے میں ان معاملات پر وضاحت دینی چاہیے۔ ان کے مطابق، عوامی میٹنگیں اور پدیاترا مرکزی حکومت کی کارکردگی پر جواب دہی کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے تلنگانہ کے حقوق، ترقی اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے کانگریس کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
