خیریت آباد ضمنی انتخاب پر روک | Khairatabad Bypoll
حیدرآباد:۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا خیریت آباد اسمبلی حلقے میں فوری ضمنی انتخاب نہیں کرائے گا۔ کمیشن نے تلنگانہ ہائی کورٹ کو یہ بات جمعرات کو بتائی۔ کمیشن زیر التوا انتخابی درخواست کے فیصلے کا انتظار کرے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو قانونی مؤقف سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق زیر التوا درخواست کے دوران نشست کو casual vacancy نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے اس مؤقف کی تائید میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔
عدالت نے کمیشن کو اپنا مؤقف حلف نامے میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس وکیٹی رام کرشنا ریڈی کی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے اگلی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
وجیا ریڈی کی درخواست پر ہائی کورٹ میں سماعت | Khairatabad Bypoll
کانگریس رہنما وجیا ریڈی نے جمعرات کو لنچ موشن درخواست دائر کی۔ انہوں نے انتخابی درخواست کے فیصلے تک ضمنی انتخاب روکنے کی اپیل کی۔ وجیا ریڈی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا تھا۔
دانم ناگیندر نے 2023 میں بی آر ایس امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وجیا ریڈی نے بعد میں ان کی کامیابی کو انتخابی درخواست میں چیلنج کیا۔ انہوں نے دانم ناگیندر کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے خود کو کامیاب امیدوار قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
وجیا ریڈی کے وکیل ودولا وینکٹارامنا نے عدالت میں دلائل دیے۔ انہوں نے عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 84، 98(c) اور 101(b) کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق درخواست کے حتمی فیصلے تک نشست پر ضمنی انتخاب نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب، الیکشن کمیشن کے سینئر وکیل اویناش ڈیسائی نے بھی عدالت کو مؤقف بتایا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی درخواست زیر التوا ہونے تک قانونی صورتحال اہم ہے۔ کمیشن نے حلف نامے کے ذریعے اپنا مکمل مؤقف پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
انتخابی درخواست میں اثاثوں سے متعلق الزامات | Khairatabad Bypoll
وجیا ریڈی کی انتخابی درخواست 2024 میں دائر ہوئی تھی۔ درخواست میں دانم ناگیندر پر فارم 26 میں اہم معلومات چھپانے کا الزام لگایا گیا۔ وجیا ریڈی نے ان کی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے انتخابی قواعد کے تحت مطلوبہ معلومات مکمل نہ دینے کا بھی الزام لگایا۔ ان کے مطابق اہلیہ کے نام موجود اثاثوں کی عدم تفصیل قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ یہ الزامات فی الحال زیر سماعت انتخابی درخواست کا حصہ ہیں۔
وجیا ریڈی نے انتخاب کے دوران ووٹروں کو رقم دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے اسے ووٹروں پر اثرانداز ہونے کی مبینہ کوشش قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے مبینہ بدعنوانی اور انتخابی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا۔
چنانچہ وجیا ریڈی نے ہائی کورٹ سے دانم ناگیندر کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے خود کو خیریت آباد کا رکن اسمبلی قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم، ان دعوؤں پر حتمی عدالتی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
اسی دوران دانم ناگیندر کی نااہلی کے بعد نشست خالی قرار دی جا چکی ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔ تاہم، زیر التوا انتخابی درخواست کے باعث ضمنی انتخاب کے نوٹیفکیشن پر قانونی سوال برقرار ہے۔
