تلنگانہ مقامی حیثیت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ | Telangana Local Status
حیدرآباد:۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ کی مقامی حیثیت کے لیے 4 سالہ تعلیمی شرط برقرار رکھی۔ عدالت نے مقامی ریزرویشن کے فوائد سے متعلق شرائط کی بھی توثیق کی۔
عدالت نے کہا کہ حکام صدارتی احکامات پر عمل کریں۔ یہی احکامات مقامی حیثیت طے کرنے کے لیے نافذ ہیں۔ چنانچہ امیدواروں کو مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ نے درخواست خارج کردی۔ یہ درخواست بلم انکیتا نے دائر کی تھی۔ انہوں نے 4 سالہ تعلیمی شرط کو چیلنج کیا تھا۔
4 سالہ تعلیمی شرط برقرار | Telangana Local Status
درخواست گزار نے 4 سالہ تعلیم کی شرط پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے اس اصول کو من مانا قرار دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے ان دلائل کو مسترد کردیا۔
عدالت نے صدارتی احکامات کو مقامی حیثیت کی بنیاد قرار دیا۔ مزید برآں، بنچ نے مقامی ریزرویشن کے لیے اہلیت کی شرائط برقرار رکھیں۔ صرف شرائط پوری کرنے والے امیدوار فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔
بنچ نے اسی معاملے میں سابقہ فیصلے کی بھی توثیق کی۔ یہ فیصلہ جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی والی بنچ نے دیا تھا۔ اس فیصلے نے بھی متعلقہ قواعد کی اہمیت واضح کی تھی۔
مقامی ریزرویشن کے لیے اہلیت کی شرائط | Telangana Local Status
قواعد کے مطابق طلبہ کو تلنگانہ میں مقررہ مدت تک تعلیم حاصل کرنا ہوگی۔ 4 سالہ تعلیمی شرط اسی اہلیت کا حصہ ہے۔ لہٰذا، امیدواروں کو مقامی حیثیت کے لیے یہ شرط پوری کرنا ہوگی۔
سپریم کورٹ نے بلم انکیتا کی درخواست پر دلائل کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد بنچ نے درخواست خارج کردی۔ اسی دوران، عدالت نے صدارتی احکامات کی حیثیت دوبارہ واضح کی۔
عدالت کے حکم سے 4 سالہ تعلیمی شرط برقرار رہی۔ یہ شرط مقامی ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے والے امیدواروں پر لاگو ہوگی۔ یوں، تلنگانہ میں مقامی حیثیت کا موجودہ معیار برقرار ہے۔
