کانگریس کا انتخابی فہرست پر احتجاج | Electoral Roll Protest
حیدرآباد:۔ حیدرآباد میں کانگریس کے احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ملک گیر مہم کا حصہ تھا۔
کانگریس رہنما اور کارکن نیکلس روڈ پر اندرا گاندھی کے مجسمے کے قریب جمع ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔ اسی دوران، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ بھی ریلی میں شامل ہوئے۔
وزراء ڈی سریدھر بابو، پونم پربھاکر اور اظہرالدین بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ ایم ایل اے، سینئر رہنما اور پارٹی کارکن بھی ریلی کا حصہ تھے۔ مزید برآں، احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ نمایاں رہا۔
ایس آئی آر پر کانگریس کے سوالات | Electoral Roll Protest
کانگریس رہنماؤں نے مرکز اور الیکشن کمیشن پر کئی الزامات عائد کیے۔ انہوں نے مرکز پر آئینی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم، یہ الزامات کانگریس رہنماؤں کے موقف کے طور پر سامنے آئے۔
رہنماؤں نے خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے انتخابی فہرستوں کی اس کارروائی پر سوال اٹھائے۔ مزید برآں، انہوں نے ووٹنگ کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔
مہیش کمار گوڑ نے الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ایس آئی آر سے متعلق بعض اعتراضات کے پس منظر میں تھا۔ 2 الیکشن کمشنروں نے ایس آئی آر سے متعلق معاملات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ | Electoral Roll Protest
کانگریس رہنماؤں نے گیانیش کمار پر مرکز کے اثر کا الزام لگایا۔ انہوں نے ان پر غیر جانب داری برقرار نہ رکھنے کا بھی الزام لگایا۔ چنانچہ رہنماؤں نے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس نے کہا کہ وہ اپنی مہم جاری رکھے گی۔ پارٹی رہنماؤں نے جمہوری عمل کے تحفظ تک مہم جاری رکھنے کی بات کی۔ اسی دوران، کارکنوں نے مرکز اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے۔
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر اپنا موقف بھی پیش کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، ایس آئی آر سے متعلق حتمی فیصلے متفقہ طور پر ہوئے۔ یوں، اس معاملے پر سیاسی اختلاف اور مطالبات برقرار ہیں۔
