ٹی ہریش راؤ کا 22A اراضی پر سوال | Ramdaspally Lands
حیدرآباد:۔ سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے رامداس پلی کے 300 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو 22A ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست سے فوری نکالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے کسان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
ٹی ہریش راؤ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ابراہیم پٹنم کے رامداس پلی میں کسانوں کی پٹہ دار اراضی کو 22A فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ان اراضی کی رجسٹریشن بھی رک گئی ہے۔ لہٰذا کسان اپنی زمین سے متعلق قانونی لین دین نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کے اقدامات سے کسانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ زرعی اراضی، تین دیگر لے آؤٹس کی زمین اور بندھوا مزدوروں کو دی گئی اراضی بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کی گئی ہے۔
ٹی ہریش راؤ کے مطابق متاثرہ کسان رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ، بینک قرض اور یوریا جیسی سہولتوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی سے وضاحت طلب کی کہ کسانوں کی اراضی کو 22A فہرست میں کیوں رکھا گیا۔
کسانوں کی شکایات برقرار رہیں | Ramdaspally Lands
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ متاثرہ کسانوں نے وزیر مالیات پونگولیٹی سرینواس ریڈی سے بھی ملاقات کی۔ مزید برآں انہوں نے مسئلے کے حل کی درخواست پیش کی۔ تاہم ان کے مطابق کسانوں کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ کسان کئی مرتبہ کلکٹر، ایم آر او اور دیگر حکام سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام کوششوں کے باوجود اراضی اب بھی 22A فہرست میں شامل ہے۔
ٹی ہریش راؤ نے ابراہیم پٹنم کے آر ڈی او کی مبینہ نوٹ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ متعلقہ زمین کسانوں کی ملکیت ہے۔ لہٰذا انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود اراضی کو فہرست سے کیوں نہیں ہٹایا گیا۔
کلکٹر کے بیان پر بھی سوال | Ramdaspally Lands
ٹی ہریش راؤ نے رنگاریڈی ضلع کلکٹر کے ایک مبینہ بیان پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق کلکٹر نے کہا تھا کہ 22A فہرست میں ایک ایکڑ بھی نئی زمین شامل نہیں کی گئی۔ تاہم انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ درست ہے تو رامداس پلی کی زمین فہرست میں کیسے شامل ہوئی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پابندی کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ مزید برآں انہوں نے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ 98 فیصد درخواستیں نمٹا دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق رامداس پلی کے کسان اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کمیشن، متاثرہ اراضی کے رقبے اور حکومتی مقاصد سے متعلق تمام دعوے ٹی ہریش راؤ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر مبنی الزامات ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں حکومت کا کوئی مؤقف شامل نہیں تھا۔
بی آر ایس نے احتجاج کا انتباہ دیا | Ramdaspally Lands
ٹی ہریش راؤ نے ریاستی انٹیلی جنس نظام کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کو عوامی مسائل کی رپورٹ حکومت تک پہنچانی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رامداس پلی اراضی تنازع پر فوری رپورٹ طلب کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت رپورٹ کی بنیاد پر فوری کارروائی کرے۔ لہٰذا متاثرہ اراضی کو بغیر تاخیر 22A ممنوعہ فہرست سے نکالا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسئلہ برقرار رہا تو بی آر ایس اپنی تحریک مزید تیز کرے گی۔
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو بی آر ایس کا وفد دو دن میں رامداس پلی کا دورہ کرے گا۔ اس کے علاوہ پارٹی متاثرہ کسانوں کو انصاف ملنے تک وہاں دھرنا دے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یقین دہانیوں کے بجائے فوری طور پر کسانوں کے زمینی حقوق بحال کیے جائیں۔
