Police Reforms
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سی وی آنند نے اسٹاف افسران کا اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں محکمہ پولیس کی مختلف اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں نفری کی تنظیم نو، سکیورٹی تعیناتی، جدید ٹیکنالوجی اور پالیسی تبدیلیوں پر غور کیا گیا۔
سی وی آنند نے کہا کہ اجلاس میں اسٹیٹ ریویو کمیٹی کی رپورٹ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ تاہم ماؤ ازم کے نام پر فراہم کی گئی غیر ضروری سکیورٹی واپس لینے پر بھی غور ہوا۔ اس فیصلے سے تقریباً 400 اہلکار اور بلٹ پروف گاڑیوں کا بیڑا اہم پولیس خدمات کے لیے دستیاب ہوگا۔
نفری اور سکیورٹی کا جائزہ | Police Reforms
سینئر افسران نے نفری اور سرکاری گاڑیوں کے جامع آڈٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران سفارشات پر عمل درآمد کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر گری ہاؤنڈز اور آکٹوپس یونٹس کو ایک ہی کیمپس سے چلانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
افسران نے تلنگانہ پولیس مینول اور اس کے کمپینڈیم کو حتمی شکل دینے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ آئی پی ایس وردی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔ کراس بیلٹ اور بیٹن کے موجودہ دور میں استعمال اور اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔
ٹیکنالوجی اور نفاذ میں نئی پیش رفت | Police Reforms
سی وی آنند نے تلنگانہ اسٹیٹ اسپیشل پولیس کے اہلکاروں کی فلاح سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا۔ لہٰذا انہوں نے دیگر سرکاری محکموں سے مکمل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں ویجلنس، غذائی ملاوٹ اور منشیات پر کنٹرول کے لیے نئے انفورسمنٹ ونگ قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ مزید برآں ٹریفک اینڈ روڈ سیفٹی بیورو کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ ٹیکنالوجی اینڈ کمپیوٹر سروسز ونگ کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
بعد ازاں سی سی ٹی این ایس 3.0، ٹی جی کاپ 3.0 اور ہاک آئی 3.0 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ یوں مختلف منصوبوں پر افسران کی آرا اور تجاویز جمع کی گئیں۔ سی وی آنند نے کہا کہ حتمی پالیسی مرتب کرتے وقت تمام سفارشات پر غور کیا جائے گا۔
Held the Staff officers ‘ meeting and discussed very important issues facing the department . The SRC report and withdrawal of superfluous security in the name of maosim leading to saving of almost 400 manpower and a fleet of BP cars , the manpower and vehicles audit and the… pic.twitter.com/uN8M62NEIb
— DGP TELANGANA POLICE (@TelanganaDGP) July 21, 2026
