Future Skills
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر محنت، روزگار، کان کنی اور ارضیات ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے روایتی انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کو جدید ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل کرکے نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی ملازمتوں کی منڈی کے لیے تیار کرنے کا اہم اقدام کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مراکز نوجوانوں کے لیے مہارتوں کے فروغ، روزگار کے بہتر مواقع اور بین الاقوامی سطح پر کیریئر کے دروازے کھول رہے ہیں۔
جمعہ کے روز میڈیا نمائندوں کے ساتھ ملک پیٹ کے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹر کے دورے کے بعد وزیر نے کہا کہ جدید صنعتی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان مراکز کو ترقی دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو مستقبل کی صنعتوں کے مطابق تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے یہ مراکز جدید انفراسٹرکچر، جدید آلات اور صنعت دوست تربیتی پروگراموں سے آراستہ ہیں۔ دورے کے دوران طلبہ اور ٹرینرز نے مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی تربیت اور سہولتوں کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔
جدید مہارتی نظام کی مضبوطی | Future Skills
ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے ٹاٹا ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے اشتراک سے ریاست میں مہارتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا پروگرام شروع کیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً ₹4,000 کروڑ کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی جس کے نتیجے میں عالمی معیار کا تربیتی انفراسٹرکچر قائم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ریاست کے نوجوانوں کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی روزگار کی منڈیوں میں بھی بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔ مزید برآں حکومت ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی مراکز میں زیر تعلیم طلبہ کو وظیفہ بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ مالی مشکلات کسی نوجوان کی فنی تعلیم میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
وزیر نے کہا کہ تربیتی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی شعبوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے سے اعلیٰ مہارت یافتہ افرادی قوت تیار ہوگی۔ چنانچہ روزگار کے امکانات میں اضافہ ہوگا اور تلنگانہ مہارتی ترقی کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔
انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ان مراکز کی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کے لیے یہ عناصر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
مستقبل کی صنعتوں کے لیے تیاری | Future Skills
ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ حکومت صرف آئی ٹی آئی انفراسٹرکچر کو جدید نہیں بنا رہی بلکہ انسٹرکٹرز اور فیکلٹی ارکان کے لیے بھی وسیع پیمانے پر تربیتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد طلبہ کو معیاری تعلیم اور عملی تربیت فراہم کرنا ہے جو صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں فارغ التحصیل طلبہ مستقبل کی صنعتوں کے تقاضے پورے کرنے کے لیے زیادہ بہتر انداز میں تیار ہوں گے۔ لہٰذا یہ پروگرام ریاست میں مہارتی ترقی کے معیار کو مزید بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی مراکز ایک مضبوط اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ تلنگانہ کو ملک کے نمایاں مہارتی ترقی مراکز میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
مہارتوں میں نمایاں بہتری | Future Skills
دورے کے دوران ملک پیٹ آئی ٹی آئی کیمپس میں خصوصی تصویری نمائش اور ٹیکنالوجی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ نمائش میں ادارے کی تبدیلی، ترقیاتی اقدامات اور طلبہ کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔
تربیت مکمل کرکے ملازمت حاصل کرنے والے طلبہ نے وزیر اور میڈیا نمائندوں سے ملاقات کی۔ طلبہ نے بتایا کہ ادارے کو ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹر میں تبدیل کیے جانے کے بعد ان کی مہارتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
طلبہ نے اپنی زندگیوں اور پیشہ ورانہ امکانات میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ دریں اثنا وزیر نے پروگرام سے وابستہ محکمہ جاتی عہدیداروں، ٹرینرز اور دیگر عملے کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے نوجوانوں کو معیاری تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ان کی لگن اور عزم کی تعریف کی۔ مزید برآں انہوں نے متعلقہ عملے پر زور دیا کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھیں تاکہ تلنگانہ کی آنے والی نسلوں کے لیے روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
نتیجتاً ریاستی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل افرادی قوت کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اسی لیے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی مراکز کو تلنگانہ کے نوجوانوں کے لیے سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
