حیدرآباد: حیدرآباد پولیس کے سائبر کرائم ونگ نے او ٹی پی پر مبنی فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر نئی وارننگ جاری کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں، کیونکہ سائبر مجرم مسلسل بینک کھاتوں سے رقم نکالنے کے نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔
منگل کے روز جاری کردہ ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ فراڈ کرنے والے خود کو بینک عملہ، کسٹمر کیئر ایجنٹ، ڈیلیوری ایگزیکٹو یا نوکری دلانے والے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ جعلی فون کالز، ایس ایم ایس، واٹس ایپ پیغامات، فشنگ لنکس اور فرضی ہیلپ لائن نمبرز کے ذریعے لوگوں کو او ٹی پی فراہم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
عام دھوکہ دہی کے طریقے | OTP Fraud
پولیس کے مطابق جعلی کے وائی سی اپڈیٹ پیغامات، ریفنڈ اور کیش بیک کے نام پر فراڈ، فرضی نوکری یا قرض کی پیشکشیں، جعلی ای کامرس ریٹرنز، یو پی آئی کلیکٹ ریکویسٹس اور سم سواپ فراڈ سب سے زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔
ایک بار او ٹی پی ہاتھ لگنے کے بعد مجرمین کو بینک اکاؤنٹس، یو پی آئی ایپس، کریڈٹ کارڈز اور ڈیجیٹل والٹس تک براہ راست رسائی مل جاتی ہے۔ نتیجتاً متاثرین کو فوری اور اکثر ناقابلِ تلافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور رپورٹنگ | OTP Fraud
سائبر کرائم ونگ نے واضح کیا کہ کوئی بھی بینک، کمپنی یا سرکاری ادارہ کبھی بھی او ٹی پی طلب نہیں کرتا۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ نامعلوم یو پی آئی ریکویسٹس منظور نہ کریں اور او ٹی پی والے اسکرین شاٹس ہرگز شیئر نہ کریں۔ اس کے علاوہ، کسٹمر کیئر نمبرز کی تصدیق صرف سرکاری ویب سائٹس یا مستند موبائل ایپس کے ذریعے کی جائے۔
پولیس نے مزید کہا کہ سم لاک، اسکرین لاک اور ٹرانزیکشن الرٹس فعال رکھنے سے سکیورٹی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ آخر میں، حکام نے اپیل کی کہ کسی بھی مشتبہ فراڈ یا نقصان کی صورت میں فوری طور پر قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر رابطہ کریں یا cybercrime.gov.in پر شکایت درج کرائیں۔
