حیدرآباد: عالمی شہرت یافتہ میدارم سمکّا-سرلمّاں مہا جاترا اپنے آخری مرحلے کے قریب پہنچتے ہی عقیدت مندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ نتیجتاً، تلنگانہ اور دیگر ریاستوں سے لاکھوں افراد بڑی تعداد میں میدارم پہنچتے رہے۔ اس بڑھتے ہوئے ہجوم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ جاترا دنیا کے سب سے بڑے قبائلی مذہبی اجتماعات میں شامل ہے۔
جاترا کے دوران عقیدت مندوں نے سمکّا اور سرلمّاں کے گڈّیلوں پر ہلدی، کمکم، گڑ، چاول اور کپڑا نذر کیا۔ یہ نذرانے جنگلاتی دیوی دیوتاؤں کی سادہ اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی باعث، عبادت کا ماحول عقیدت اور سادگی سے بھرپور نظر آیا۔
شدید رش کے باوجود درشن کا عمل پورے جاترا علاقے میں خوش اسلوبی سے جاری رہا۔ حکام نے واضح اور منظم قطاروں کے ذریعے آمد و رفت کو کنٹرول کیا۔ چنانچہ، عقیدت مند پرسکون ماحول میں صبر کے ساتھ درشن کے منتظر رہے۔
بہت سے زائرین نے درشن سے قبل جمپنا واگو میں مقدس اشنان بھی کیا۔ اس کے بعد وہ باقاعدہ قطاروں میں شامل ہو کر گڈّیلوں کی جانب روانہ ہوئے، جس سے نظم و ضبط برقرار رہا۔
رش کے باوجود درشن کا عمل ہموار | Jatara Tribal Festival
بڑھتے ہوئے ہجوم سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے باہمی تعاون سے کام کیا۔ مزید یہ کہ اہم مقامات پر کڑی نگرانی رکھی گئی تاکہ بھیڑ بھاڑ سے بچا جا سکے اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
اسی دوران، طبی ٹیمیں پورے جاترا علاقے میں مستعد رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ رضاکار قطاروں اور اجتماع کے مقامات پر موجود رہے اور عقیدت مندوں کی رہنمائی کرتے رہے۔
کاکتیہ یونیورسٹی کے تقریباً 500 این ایس ایس رضاکاروں نے انتظامات میں حصہ لیا۔ انہوں نے گڈّیلوں کے قریب خدمات انجام دیں، جمپنا واگو کے اطراف رہنمائی کی، قطاروں کو منظم رکھا اور بچھڑنے والے افراد کو ان کے اہل خانہ سے ملانے میں مدد کی۔
عقیدت مندوں کا اطمینان اور معززین کی حاضری | Jatara Tribal Festival
عقیدت مندوں نے مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار درشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور بہتر انداز میں ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صفائی، سیکورٹی، طبی سہولیات اور رضاکاروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
جاترا کے دوران کئی معزز شخصیات نے بھی حاضری دی اور پوجا کی۔ گورنر جشنو دیو ورما نے خصوصی رسومات ادا کیں اور منّت کے طور پر گڑ نذر کیا۔ اس کے علاوہ، پولیس کے اعلیٰ افسران اور سابق گورنر سمیت مختلف وزرا، اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی نے بھی درشن کیا۔
برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے بھی میدارم پہنچ کر تلا بھرَم ادا کیا، جس سے جاترا کی عالمی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔ مجموعی طور پر، حکام کے مطابق میدارم جاترا پُرامن انداز میں جاری رہی، جہاں عقیدت، روایت اور منظم انتظامات کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا۔
